صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 258 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 258

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۲۵۸ ۹۲ - كتاب الفتن گرانی اشیاء، ظالموں کا تسلط ہو جانا۔ اور ایسا ہی حسن نے کہا کہ یہ دربارہ علی و عثمان و طلحہ والزبیر نازل ہوئی۔“ (حقائق الفرقان جلد ۲ صفحہ ۲۵۶) أَنَا عَلَى حَوْضِي أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَى : میں اپنے حوض پر اُن لوگوں کا انتظار کر رہا ہوں گا جو میرے پاس پانی پینے کے لئے آئیں گے۔ حوض کے متعلق روایات میں ذکر ہے کہ حوض ، مدینہ اور صنعاء کے درمیان فاصلہ جتنا وسیع ہے۔ (صحیح مسلم ، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبینا ﷺ و صفاته) حوض کی وسعت آیلہ اور یمن کے شہر صنعاء کے درمیان فاصلہ کی وسعت کے مساوی ہے اور آسمان میں ستاروں کی تعداد کے برابر اس میں آبخورے ہیں۔ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب فی الحوض، روایت نمبر ۶۵۸۰) اور فرمایا کہ میرے حوض کی وسعت ایک ماہ کے سفر کی مسافت کے برابر ہے۔ اس کا پانی دودھ سے بھی زیادہ سفید اور اس کی ہوا مشک سے بھی زیادہ خوشبودار اور اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں۔ جس نے ان میں سے پیا، ساری عمر کے لئے اس کی تشنگی ختم ہو گئی۔ (صحیح البخاری روایت ۶۵۷۹) پھر یہ بھی واضح فرما دیا کہ اس حوض پر آپ اپنی اُمت کے لوگوں کا انتظار فرمائیں گے اور جو آپ کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے ہوں گے وہ اس حوض سے دور کر دیئے جائیں گے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حوض کوثر کسی مادی یا جسمانی چیز کا نام نہیں بلکہ یہ حوض روحانی مطالب کی ایک خوبصورت کہکشاں ہے۔ ورنہ ان روایات کی تطبیق ممکن نہیں۔ جبکہ یہ اپنے سلسلہ اسناد میں نہایت ثقہ اور مستند ہیں۔ حوضِ کوثر آنحضرت صلی اسلام کے فیض کا وہ جاری چشمہ ہے جس سے اس دنیا میں بھی آپ کے حقیقی پیروکار اور اطاعت گزار مستفیض ہوں گے اور آخرت میں بھی۔ مگر وہ جنہوں نے آپ کے طریق اور سنت کو چھوڑ کر نئی راہیں اختیار کر لیں وہ اپنی اس بدبختی کی وجہ سے آپ کے چشمہ فیض سے دور کر دیئے جائیں گے جبکہ ساری مخلوق پیاسوں کی طرح اس چشمے کی طرف دوڑے گی۔ کیا خوب فرمایا: يَا عَيْنَ فَيْضِ اللَّهِ وَالْعِرْفَانِ يَسْعَى إِلَيْكَ الْخَلْقُ كَالظَّمَانِ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن، جلد ۵، صفحه ۵۹۰) اے اللہ کے فیض اور معرفت کے چشمے ! تیری طرف مخلوق پیاسوں کی مانند دوڑتی ہے۔ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أَصْحَابِي فَيَقُولُ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ: میں کہوں گا: اے میرے رب ! میرے ساتھی ہیں۔ فرمائے گا: تم نہیں جانتے تمہارے بعد انہوں نے کیا کچھ نئی ٹی کر تو تیں کیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ اس حدیث کی تفسیر بیان فرماتے ہیں کہ مة المرسل احادیث میں آتا ہے کہ رسول صلی ٹیم کو قیامت کے دن یہ نظارہ دکھایا جائے گا کہ آپ کے بعض صحابہ کو دوزخ کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ آپ یہ نظارہ دیکھ کر