صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 257
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۲۵۷ ۹۲ - كتاب الفتن بھی گرفت کرے گا جن پر اس کی صحیح تربیت کی ذمہ داری تھی لیکن انہوں نے اپنی یہ ذمہ داری ادا نہیں کی اگر وہ لوگ اس کی صحیح تربیت کی ذمہ داری کی طرف کما حقہ ، متوجہ رہتے تو ان کا بچہ چور نہ بتا۔۔۔خدا تعالیٰ سے زیادہ تو کوئی بندہ کسی پر رحم نہیں کر سکتا ایک ہی ہستی ہے جس کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب سے زیادہ ہے اس کی رحمت نے مخلوق میں سے ہر شئے کا احاطہ کیا ہوا ہے اسے گھیرے میں لیا ہوا ہے کسی اور ہستی کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا پھر جب وہ ہستی جو رحمت محض ہے اور جس نے اپنی رحمت اور پیار کے لئے ہی اپنے بندوں (انسانوں) کو پیدا کیا ہے کسی میں فلم دیکھتی ہے جب وہ ہستی کسی میں ناپاکی اور گندگی پاتی ہے تو کسی انسان کا یہ حق نہیں کہ وہ یہ کہے کہ چونکہ ہماری آنکھ نے صرف اولاد میں گند کو دیکھا تھا اور ان کے ماں باپ کی عدم توجہ کو ہماری آنکھ نہیں دیکھ سکتی تھی ہماری ناقص عقل میں وہ نہیں آسکا تھا۔ہمارے کمز ور علم میں وہ بات نہیں آئی تھی اس لئے ہم ان پر گرفت نہیں کر سکتے۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض ایسے ابتلاء ہوتے ہیں کہ صرف ظالم ہی ان کی گرفت میں نہیں آتے بلکہ تمہاری نگاہ جن کو ظالم نہیں سمجھتی وہ بھی اس کی گرفت میں آجاتے ہیں اور آنے چاہئیں اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِه (بخاری، کتاب النکاح) خطبات ناصر ، خطبه جمعه ۹ جنوری ۱۹۷۰، جلد ۳ صفحه ۱۲ تا ۱۵) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ برائی کو اپنے سامنے نہ ٹھہرنے دیں ورنہ ان سب کے اوپر عذاب آئے گا۔اور عبد اللہ نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے مال، تمہاری اولا د فتنہ ہے۔۔۔۔اور خازن میں ہے کہ یہ عذاب بالخصوص ظلم پر ہی مقصور نہ رہے گا بلکہ تم سب پر چھا جائے گا اور نیک و بد گنہگار ناکردہ گناہ دونوں پر اس کا اثر پہنچے گا۔ابن کثیر فرماتے ہیں گنہگار ہی اسی سے خاص نہیں اور نہ وہ جو گناہ میں ملوث ہو۔بلکہ یہ عام ہے۔۔۔۔فتح البیان میں بھی ایسا ہی ہے اور اس پر زیادہ کیا ہے کہ فتنہ مثلاً قحط،