صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 259 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 259

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۵۹ ۹۲ - كتاب الفتن خدا تعالیٰ کے حضور عرض کریں گے کہ اے خدا! یہ تو میرے صحابہ ہیں جہاں تک مجھے علم ہے انہوں نے تیری خاطر اخلاص اور فدائیت کے ساتھ قربانیاں دی ہیں میں تو سمجھتا تھا کہ انہوں نے تیری رضا کو حاصل کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرمائے گا اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو نہیں جانتا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ان کے اعمال کا پورا علم مجھے ہے گویا بعض برگزیدہ انسان بھی بعض لوگوں کے متعلق یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ اچھے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لیا ہے لیکن حقیقت وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے وارث نہیں ہوں گے۔وہ اس کی جنت سے مستحق قرار نہیں دیئے جائیں گے۔پس فرمایا وَ مَا اَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمُ وكيلا (بنی اسرائیل: ۵۵) کہ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو نہ تو اس بات کا ذمہ دار ہے کہ لوگ ضرور نیکیاں کریں اور نہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اگر لوگ بظاہر نیکیاں کریں تو وہ ضرور جنت کے وارث بن جائیں گے۔کیونکہ اس دنیا میں بھی تمہارے سامنے ایک مثال موجود ہے ایک شخص جنگ میں بظاہر بڑے اخلاص سے حصہ لے رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا اسلام پر فدا ہونے کو اس کا جی چاہ رہا ہے۔وہ مسلمانوں کی طرف سے لڑ رہا تھا۔اور کافروں پر حملہ آور ہو رہا تھا اور بڑے بڑے صحابہ کی بھی اس کے متعلق یہ رائے تھی کہ وہ بڑا مخلص اور فدائی ہے۔لیکن جب آنحضرت صلی ال نیم کے سامنے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا۔وہ دوزخی ہے۔صحابہ نے رسول کریم صلی ا یکم کی بات کو سچا ثابت کرنے کے لئے اس شخص کا پیچھا کیا تو انہوں نے دیکھا وہ جنگ میں شدید زخمی ہو گیا ہے۔اور زخموں کی تکلیف کی برداشت نہ کرتے ہوئے اس نے خود کشی کر لی ہے۔اس طرح صحابہ کو نظر آ گیا کہ گو اس شخص نے بڑے جوش کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا تھا لیکن اس کا ایسا کرنا اخلاص کی بناء پر نہیں تھا بلکہ بعض اور بواعث تھے جن کی وجہ سے وہ کفار کے خلاف بڑے جوش کے ساتھ لڑا۔پس یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تجھے ان کا ذمہ دار نہیں بنایا “ خطبات ناصر ، خطبہ جمعہ ۱۱ مارچ ، ۱۹۶۶، جلد اول صفحه ۱۷۷ ۱۷۸)