صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 256
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۵۶ ۹۲ - كتاب الفتن حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض عذاب اور ابتلاء اور مصائب اور آفتیں دنیا پر ایسی بھی نازل کی جاتی ہیں کہ ان کی لپیٹ میں صرف ظالم ہی نہیں آتا بلکہ وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جن کا بظاہر اس ظلم میں کوئی حصہ نہیں یعنی صرف ظالم کو وہ آفت یا بلاء یا عذاب نہیں پہنچتا بلکہ دوسرے بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ اصول تو ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (الأنعام:۱۶۵) کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اُٹھائے گی لیکن چونکہ یہ دُنیادار الابتلاء ہے دارالجزاء نہیں۔ اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اس ابتلاء ابتلاء اور عذاب میں وہ لوگ بھی شامل : شامل ہو جائیں گے۔ یہ ابتلاء اور عذاب ان لوگوں کو بھی پہنچے گا جو ظالم نہیں ہیں اور قرآن کریم کے متعلق یہ اصول یا د رکھنا چاہئے کہ اس کی آیات باہم تضاد نہیں رکھتیں۔ لہذا ہمیں اس آیت کے ایسے معنی کرنے پڑیں گے جو کسی دوسری آیت سے ٹکراتے نہ ہوں ان کے متضاد نہ ہوں پس یہاں ایک معنی یہ ہوں گے کہ گو ظاہری طور پر وہ لوگ ظلم میں شامل نہیں لیکن باطنی طور پر وہ ظلم میں : لم میں شامل ہیں اور وہ اس وہ اس طرح کہ بعض ذمہ داریاں افراد سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ انفرادی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور بعض ذمہ داریوں کے بہت سے پہلو یا وہ ساری کی ساری اجتماعی رنگ رکھتی ہیں اور جو اجتماعی ذمہ داریاں ہیں اگر وہ گروہ یا وہ خاندان جن کی وہ ذمہ داریاں ہیں بحیثیت مجموعی ان کی طرف متوجہ نہ ہوں اور اس کے نتیجہ میں اس گروہ یا خاندان کے بعض افراد ظالم بن جائیں تو سزا اور عذاب میں سارا خاندان ہی ملوث ہو جائے گا۔ دُنیا کی نگاہ تو یہ دیکھے گی کہ ایک پندرہ سالہ بچے نے چوری کی مگر اللہ تعالٰی کی نگاہ یہ دیکھتی ہے کہ اس کے ماں اور باپ بہن اور بھائیوں اور خاندان کے دوسرے بڑے رشتہ داروں پر جو یہ فرض تھا کہ وہ اس پندرہ سالہ معصوم بچے کی صحیح تربیت کریں وہ تربیت انہوں نے نہیں کی جس کے نتیجہ میں وہ چور بن گیا۔ پس دُنیا کا قانون تو صرف اس بچے کو سزا دے گا مگر اللہ کا قانون اُس دُنیا میں بھی اور اس دنیا میں بھی صرف اس بچے پر گرفت نہیں کرے گا جس نے چوری کی بلکہ ان پر