صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 246
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۴۶ ٩١ - كتاب التعبير تعبیر الرؤیا سے اس کی تعبیر کا پتا نہیں لگا لیکن مجھے کوئی ایسا امر پہنچنے والا ہے جو میرے لیے غم کا موجب ہو گا۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده یکم فروری ۱۹۵۷ء به جمعه فرموده یکم فروری ۱۹۵۷، جلد ۳۸ صفحه ۳۳ تا ۳۵) ایک شخص نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا کہ جب خواب بیان کیا جاتا ہے تو یہ بات مشہور ہے کہ سب سے اول جو تعبیر معبر کرے وہی ہوا کرتی ہے اور اسی بناء پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہر کس و ناکس کے سامنے خواب بیان نہ کرنا چاہیے۔ آپ نے فرمایا: ” جو خواب مبشر ہے اس کا نتیجہ انذار نہیں ہو سکتا اور جو مندر ہے وہ مبشر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے یہ بات غلط ہے کہ اگر مبشر کی تعبیر کوئی مُعبّر مندر کی کرے تو وہ منذر ہو جاوے گا اور منذر مبشر ہو جاوے گا۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی منذر خواب آوے تو صدقہ، خیرات اور دعا سے وہ بلا ٹل جاتی ہے۔“ 66 البدر، یکم مئی ۱۹۰۳، نمبر ۱۵ جلد ۲ صفحه ۱۱۷) باب ٤٨ : تَعْبِيرُ الرُّؤْيَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر کرنا ٧٠٤٧ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ۷۰۴۷ : مؤمل بن ہشام ابو ہشام نے ہم سے بیان أَبُو هِشَامٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ عوف إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنَا أَبُو نے ہم سے بیان کیا۔ ابور جاء نے ہمیں بتایا۔ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِيَ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ہم سے اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے اکثر یہ بھی پوچھا کرتے تھے۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا؟ حضرت يَقُولَ لِأَصْحَابِهِ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ سمرہ کہتے تھے: تو پھر وہ لوگ جن کے متعلق اللہ مِنْ رُؤْيَا؟ قَالَ فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَا شَاءَ چاہتا کہ بیان کریں آپ سے بیان کرتے اور ایک اللهُ أَنْ يَقُصُّ وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ دن صبح کے وقت آپ نے فرمایا۔ آج رات دو غَدَاةٍ إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ وَإِنَّهُمَا آنے والے میرے پاس آئے۔ اُنہوں نے مجھے 1 فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ لفظ من ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۵۴۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔