صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 245
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۴۵ ۹ - كتاب التعبير کہ ایک کثیر تعداد نے یہ خواب دیکھی تھی اور پھر اِس رنگ میں پوری ہوئی تو انہوں نے لکھ لیا کہ اس کی یہ تعبیر ہے۔۔۔بعض رؤیا ایسی ہوتی ہیں جن کی تعبیر تسلسل کے قاعدہ کے ماتحت ہوتی ہے۔یعنی مسلسل لوگوں کو ایسی خواہیں آئی ہوئی ہوتی ہیں۔پس ان کا جو تجربہ ہوتا ہے اس کو لے کر مغبرین اپنی کتابوں میں درج کر لیتے ہیں۔مگر بعض ایسی رویا ہیں کہ جن کو فہم الہی سے حل کیا جاتا ہے۔مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام نے جو خواب کی تعبیر بیان کی وہ تعبیر الرؤیا کی کسی کتاب میں نہیں نکلے گی۔گو قرآن شریف کو دیکھ کر تعبیر الرؤیا والوں نے بھی اسے لکھ لیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس تو قرآن کریم نہیں تھا۔حضرت یوسف علیہ السلام نے فہم الہی سے اس کی تعبیر کی اور وہ پوری ہو گئی۔تور دیا کا جو علم ہے وہ بڑا نازک اور اہم ہے۔نہ تو عام طور پر رؤیا کے وہ لفظ پورے ہوتے ہیں جو انسان دیکھتا ہے اور نہ وقت اور تفصیل کی تعیین ہوتی ہے لیکن ہو تا کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔اور بعد میں پتا لگ جاتا ہے کہ اس کا کیا مقصد تھا۔گو یار و یا پوری ہو کر اپنی حقیقی تعبیر کرتی ہے۔یا جو پہلے لوگوں کی رؤیا ہیں انہیں نقل کر کے معتبرین نے اپنی کتابوں میں درج کر دیا ہے۔اگر اس قسم کی رؤیا پوری ہو کر معتبرین نے اپنی کتابوں میں درج کر دیا ہے۔اگر اس قسم کی رؤیا پہلے لوگوں کو نہیں ہو ئیں تو تعبیر الرؤیا میں ان کے متعلق کچھ نہیں نکلے گا۔تعبیر الرؤیا کی کتابیں اس پر خاموش ہوں گی۔لیکن مومن یہ ضرور سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو چیز دکھائی ہے وہ میرے ایمان کی زیادتی کے لیے دکھائی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کوئی فضول کام نہیں کرتا۔قرآن کریم سے پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ عبث کام نہیں کرتا۔اور جب وہ کوئی عبث کام نہیں کرتا تو جب وہ کسی کو کوئی رؤیا دکھاتا ہے تو اس کی کچھ نہ کچھ ضرور تعبیر ہوتی ہے۔پس مومن کو اس رؤیا سے اپنے تو کل کو بڑھانا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی خبر خوشی پر دلالت کرتی ہے یعنی ایسے مضمون پر دلالت کرتی ہے جس سے خوشی پہنچتی ہے تو وہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ مجھے خوشی پہنچائے گا۔اور اگر کسی ایسے مضمون پر دلالت کرتی ہے جو غم کا موجب ہے تو پھر وہ یہ سمجھ لے کہ اگر چہ