صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 244
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۲۴۴ ۹ - كتاب التعبير حقیقت یہ ہے کہ رویا کا اصل مقصد یہ نہیں ہوا کرتا کہ لوگ تفصیل یا وقت کی تعیین کر لیں بلکہ رویا کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی اُمید اور تو کل بڑھا لیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رویا تعبیر طلب ہوتی ہیں مگر آخر کچھ تعبیر تو ان کی ہوتی ہے۔تعبیر کے تو محض یہ معنے ہیں کہ جن الفاظ میں رویا دکھائی گئی ہے ممکن ہے ان میں وہ رویا پوری نہ ہو لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ کچھ بھی ظاہر نہیں ہو گا۔دیکھو ! جب مکہ والوں کی تکلیفیں بڑھ گئیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رویا میں دیکھا کہ آپ نے ایک ایسی جگہ کی طرف ہجرت کی ہے جو کھجوروں اور چشموں والی ہے۔آپ نے رؤیا کے ظاہری الفاظ کے مطابق یہ تعبیر کی کہ آپ کو یمامہ یا ھجر کی طرف ہجرت کرنی پڑے گی۔مگر جب ہجرت ہوئی تو مدینہ ہوئی جو خود کھجوروں کی جگہ ہے۔لیکن ہجرت سے پہلے آپ نے فرمایا تھا کہ میں نے رؤیا سے یہ سمجھا تھا کہ ہم یمامہ یا ھجر کی طرف ہجرت کریں گے۔لیکن جو تعبیر ظاہر ہوئی وہ یہ تھی کہ مدینہ کی طرف آپ نے ہجرت فرمائی۔اب یہ تو نہیں کہ کوئی بھی ہجرت نہیں ہوئی۔اگر ہجرت یمامہ یا حجر کی طرف نہیں ہوئی تو مدینہ کی طرف تو ہو گئی۔پس وہ لوگ جو یہ سمجھ لیتے ہیں کہ رویا چونکہ تعبیر طلب ہوتی ہیں اس لیے ہمیں کسی رد عمل کی ضرورت نہیں، غلطی پر ہیں۔تعبیر طلب کے معنے یہ ہیں کہ رویا کی تعبیر تو ضرور ہوتی ہے اور وہ پوری ہوتی ہے لیکن جو ظاہر میں شکل دکھائی جاتی ہے اس میں وہ اور ہوتی ہے۔اب ہمیں نہیں پتا کہ وقت پر اللہ تعالیٰ کیا شکل دکھائے۔لیکن یہ تو پتا ہے کہ ضرور کچھ دکھائے گا۔پس ان متواتر رویا ہونے کے یہ معنے نہیں کہ رویا میں جو چیز دکھائی گئی ہے بعینہ اسی شکل میں پوری ہو گی۔بعض دفعہ رویا بعینہ اسی شکل میں پوری ہوتی ہے جس میں وہ دکھائی جاتی ہے اور بعض دفعہ کسی اور شکل میں پوری ہوتی ہے جو بعض دفعہ ایک تسلسل کے ماتحت ہوتی ہے جس کے مطابق تعبیر نامہ والے اپنی کتابوں میں تعبیریں لکھ دیتے ہیں۔تعبیر نامہ والوں نے یہی کیا ہے کہ مختلف لوگوں کی خواہیں انہوں نے جمع کیں اور پھر پوچھا کہ تمہاری خواب کس طرح پوری ہوئی تھی؟ اور جب انہیں معلوم ہوا