صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 243 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 243

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۴۲۳ ۹ - كتاب التعبير يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ ہے جس پر آپ ہیں۔آپ اس پر کار بند رہیں رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُهُ بِهِ گے یہاں تک کہ اللہ آپ کو بلند مقام پر پہنچا رَجُلٌ فَيَنْقَطِعُ ثُمَّ يُوَصَّلُ لَهُ فَيَعْلُو دے۔پھر اس کے بعد ایک شخص اس سچائی پر عمل بِهِ فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ - بِأَبِي کرے گا اور آخر وہ بھی اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے گا۔پھر اس کے بعد ایک اور شخص اس پر عمل کرے أَنْتَ - أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ گا اور وہ اس کے ذریعہ اعلیٰ مقام پر پہنچے گا۔پھر قَالَ لَا تُقْسِمْ۔النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ اس کے بعد ایک اور شخص اس کو لے گا تو وہ رسی بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا قَالَ فَوَاللَّهِ یا کٹ جائے گی۔پھر اس کے لئے وہ جوڑ دی جائے رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ کی اور وہ بھی اس کے ذریعہ سے اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے گا۔یا رسول اللہ ! میرا باپ آپ پر قربان، مجھے بتائیں کیا میں نے صحیح تعبیر کی یا غلط؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ٹھیک کی اور کچھ غلط۔حضرت ابو بکر کہنے لگے: تو پھر اللہ کی قسم، یا رسول اللہ ! آپ مجھے ضرور بتائیں جس بات میں میں نے غلطی کی۔آپ نے فرمایا: قسم نہ کھاؤ۔طرفه: ۷۰۰۰۔تشریح: ريح۔مَنْ لَمْ يَرَ الرُّؤْيَا لِأَوَّلِ عَابِرٍ إِذَا لَمْ يُصِبْب: جس شخص نے یہ سمجھا کہ پہلے تعبیر کرنے والے سے خواب کا ذکر کرنا کہ جس نے صحیح تعبیر نہیں کی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رؤیا کے متعلق بہت سے لوگوں کا نقطہ نظر جدا گانہ ہوتا ہے۔بعض لوگ جب کوئی رؤیا سنتے ہیں تو ساتھ ہی اُس رویا کی بناء پر وقت کی تعیین بھی کر دیتے ہیں اور تفصیل کی بھی تعیین کر دیتے ہیں۔اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ر و یا سنتے ہیں تو پھر بھی ان کی مایوسی ر نہیں ہوتی اور وہ کہتے ہیں رویا تعبیر طلب ہوتی ہے معلوم نہیں اس کا کیا مطلب ہو گا۔رور یہ دونوں نقطہ نگاہ اپنی اپنی جگہ پر غلط ہیں۔فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ہو ہے۔(فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۵۳۹)