صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 242 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 242

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۴۲ ۹۱ - كتاب التعبير عُتْبَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عبد الله بن عقبہ سے روایت کی کہ حضرت ابن كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ ایک شخص اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطُفُ لگا۔ میں نے آج رات خواب میں ایک ابر کا ٹکڑا دیکھا کہ جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے اور میں السَّمْنَ وَالْعَسَلَ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَالْمُسْتَكْثِرُ لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ ہاتھوں میں اُنہیں لے رہے ہیں۔ کوئی بہت لے رہا ہے اور کوئی تھوڑا۔ وَالْمُسْتَقِلُّ وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ا اہوں کہ ایک رہی ہے جو زمین الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ فَأَرَاكَ أَخَذْتَ سے آسمان تک پہنچی ہوئی ہے اور میں نے آپ کو بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ دیکھا کہ آپؐ نے اس کو پکڑ لیا اور اوپر چڑھ گئے۔ فَعَلَا بِهِ {ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ پھر ایک اور شخص نے اس کو پکڑا اور اس کے ذریعہ فَعَلَا بِهِ } ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ سے اوپر چڑھ گیا۔ پھر ایک اور شخص نے اس کو فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا پکڑا اور اس کے ذریعہ سے اوپر چڑھا۔ پھر ایک رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِي اور شخص نے اس کو پکڑا اور وہ رسی ٹوٹ گئی۔ پھر فَأَعْبُرَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس کے بعد وہ جوڑ دی گئی۔ تو حضرت ابو بکر نے وَسَلَّمَ لَهُ اعْبُرْهَا قَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ کہا : یا رسول اللہ ! میرا باپ آپ پر قربان اللہ کی قسم آپ مجھے اجازت دیں کہ اس کی تعبیر کروں۔ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الَّذِي يَنْطُفُ مِن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کرو۔ انہوں نے الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ کہا: ابر کا ٹکڑا جو ہے تو اسلام ہے اور وہ جو شہد اور تَنْطِفُ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ گھی ٹپک رہا ہے تو یہ قرآن ہے جس کی شیرینی وَالْمُسْتَقِلُ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ پک رہی ہے۔ اب قرآن سے کوئی بہت مزہ لے السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي رہا ہے اور کوئی کم مزہ لے رہا ہے اور وہ رسی جو أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللهُ ثُمَّ آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی ہے تو یہ ، وہ سچائی ا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۵۳۹) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔