صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 241 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 241

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۴۱ ۹۱ - كتاب التعبير کر دے اور اگر نا پسندیدہ چیز دیکھے تو کسی کو نہ بتائے اور اٹھ کر نماز پڑھ لے۔“ حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ میں بسا اوقات ایسے خواب دیکھتا کہ اس سے متاثر ہو کر میں بیمار پڑ جایا کرتا لیکن جب سے میں نے رسول اللہ صلی ﷺ کا ارشاد فإنها لا تضره سنا ہے مجھے اس سے کچھ بھی غم نہیں ہوتا، اسی طرح حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الوم کے اس ارشاد گرامی کے سننے کے بعد سے میں برے خواب پر توجہ ہی نہیں دیتا اور اس سے مجھے کوئی ڈر محسوس نہیں ہوتا۔(صحیح بخاری، کتاب الطب، باب النفث فی الرقیة، روایت نمبر ۵۷۴۷) اس لئے اگر کسی کو برا خواب آجائے تو اسے چاہئے کہ نبی اکرم صلی الی یوم کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرے اور ذہن و دماغ سے وساوس کو نکال کر یہ یقین کرلے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا جیسا کہ خواب میں دیکھا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس جگہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام تو تعبیر کرنے والے تھے۔پھر انہوں نے یہ کیوں کہا کہ فیصلہ کر دیا گیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ خواب کی تعبیر کا بھی اس کے پورا ہونے سے بہت کچھ تعلق ہوتا ہے۔جب تک خواب سنائی نہیں جاتی اسے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔لیکن جب سنائی جاتی ہے اور اس کی تعبیر ہو جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کو اس کی غیرت ہو جاتی ہے اور وہ حتی الوسع ضرور پوری کی جاتی ہے۔اسی وجہ سے صوفیاء نے لکھا ہے بلکہ احادیث میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ بری خواب سنائی نہیں چاہئے۔پس جب ان لوگوں نے خواہیں حضرت یوسف علیہ السلام کو سنادیں اور انہوں نے تعبیر کر دی تو ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اب یہ خواہیں پوری ہو کر رہیں گی۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ یوسف، زير آيت يُصَاحِبَي السجن أما أحد كما فيسقى جلد ۳ صفحه ۳۱۶،۳۱۵) بَاب ٤٧ : مَنْ لَمْ يَرَ الرُّؤْيَا لِأَوَّلِ عَابِرٍ إِذَا لَمْ يُصِبْ جس شخص نے یہ سمجھا کہ پہلے تعبیر کرنے والے سے خواب کا ذکر کرنا کہ جس نے صحیح تعبیر نہیں کی کوئی حقیقت نہیں رکھتا ٧٠٤٦: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ٧٠٢٦: یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے، یونس نے شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن