صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 240
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۴۰ ۹۱ - كتاب التعبير چاہیے کہ وہ اپنی بائیں جانب تھوک دے اور اللہ کے ذریعے اس کے شر سے پناہ مانگے تو وہ خواب اسے کچھ بھی ضرر نہ پہنچائے گا۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَتَحَوَّلُ وَلْيَنقُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْأَلِ اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا وَلْيَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ غَيْرِهَا ”جب تم میں سے کوئی نا پسندیدہ خواب دیکھے تو چاہیے کہ کروٹ بدل لے اور بائیں طرف تین بار تھوک دے اور اللہ سے اس خواب کا خیر مانگے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہے مذکورہ روایتوں کی روشنی میں بائیں جانب تھوکنے کے بعد تین بار یہ کلمات کہہ لئے جائیں : أعُوذُ بِالله مِن الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ وَمِن شَرِ هَذِهِ الرُّؤْيَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِن شَرِهَا ” میں مردود شیطان اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میں اس کا خیر مانگتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں“ نیز رسول اللہ صلی الیم نے نیند میں ڈر جانے کی صورت میں جو دعا سکھائی ہے وہ بھی پڑھ لی جائے، وہ دعا یہ ہے : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ الثَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَن يَحْضُرُونِ " میں اللہ کے غضب، عقاب، اس کے بندوں کے فساد، شیطانی وساوس اور ان (شیطانوں) کے میرے پاس آنے سے اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں۔“ برے خواب کے بارے میں یہ ادب بھی رسول اللہ صلی مریم نے بتایا ہے کہ اسے کسی سے بیان نہ کیا جائے، رسول اللہ مل الم کا ارشاد ہے : إذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يُحِهَا، فَإِلَمَا هِيَ مِنَ اللهِ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَيْثُ بِهَا، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مَا يَكْرَهُ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ غَيْرِهَا، وَلا يَذْكُرُهَا لِأَحَدٍ، فَإِنَّهَا لا تَضُرُّهُ " " جب کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے تو ( سمجھ لے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے ، اس لئے اس پر اللہ کی حمد بیان کرے اور اسے لوگوں سے بیان کرے، اور اگر اس کے سوا کوئی ایسا خواب دیکھے جس کو نا پسند کرتا ہو تو ( سمجھ لے کہ ) یہ شیطان کی طرف سے ہے، اس لئے اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ چاہے ، اور اسے کسی سے بیان نہ کرے، تو یہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الرُّؤْيَا ثَلَاتُ: فَيُقْرَى مِنَ اللَّهِ وَحَدِيثُ النَّفْسِ، وَتَقْوِيفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيَقُضَهَا، إِنْ شَاءَ، وَإِنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ، وَلْيَقُمْ يُصَلّي " "خواب تین قسم کا ہوتا ہے اللہ کی طرف سے خوشخبری، دل کے خیالات اور شیطان کی طرف سے ڈراوا اگر تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا معلوم ہو تو اگر چاہے تو بیان (سنن ابن ماجه، کتاب تعبِيرِ الرُّؤْيَا ، بَاب مَنْ رَأَى رُؤْيَايَكُرَهُهَا، روایت نمبر ۳۹۱۰) (سنن الترمذي، أبواب اللعَوَاتِ، روایت نمبر ۳۵۲۸) (صحيح البخاري، كتاب التعبير ، باب الرُّؤْيَا مِن الله ، روایت نمبر ۶۹۸۵) (سنن ابن ماجه، كتاب تعبير الرؤيا، باب الرُّؤْيَا ثَلاث، روایت نمبر ۳۹۰۶)