صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 239
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۳۹ ۹۱ - كتاب التعبير خوف گھبراہٹ اور انذار کا باعث بنتے ہیں۔اگر تو یہ واقعی شیطانی خوابیں ہوں تو وہ محض ایک موقع کا خوف اور بے چینی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں تھوکنا اور شیطانی وسوسے سے بچنے کے لیے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنا، کروٹ بدل لینا اور اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے بچنے کی دعا کرنا اور ذکر الہی کرنا، انسان کے لیے ہر قسم کی خیر کے حصول کا باعث ہو گا۔لیکن اگر انذاری خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو اس کے بُرے نتیجے سے بچنے کے لیے مذکورہ بالا امور کے ساتھ ساتھ ظاہری اسباب سے کام لینا احتیاط کرنا اور ممکنہ حفاظتی حصار میں اپنے آپ کو رکھنا ضروری ہے۔دراصل انذاری خواہیں اپنے اندر پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہیں جن سے بچنے کے لیے قرآن کریم نے استغفار، صدقات اور نماز و عبادات کے قیام کی بارہا تلقین کی ہے تا انسان ممکنہ خطرے سے بیچ سکے۔جیسا کہ فرمایا : مَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (الأنفال: ۳۴) نہ اللہ ان کو ایسی حالت میں عذاب دے سکتا تھا جبکہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔جیسے حضرت یونس کی قوم نے انذاری پیشگوئی پورا ہونے کے آثار جب دیکھ لیے تو ساری قوم توبہ و استغفار میں لگ گئی اور وہ پیشگوئی ٹل گئی۔احادیث میں اس کی تفصیل ملتی ہے۔جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت یونس نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو حضرت یونس نے انہیں عذاب کی خبر دی اور انہیں چھوڑ کر نکل گئے۔انبیاء علیہم السلام جب اپنی قوم کو عذاب کی وعید دیتے ہیں تو خود ان سے باہر نکل جاتے ہیں۔پھر جب عذاب کا وقت آپہنچا تو ان کی قوم باہر نکلی۔انہوں نے عورت کو اس کے بچے سے اور بکری کو اُس کے مہینے سے الگ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی و انکساری اختیار کرنے لگے۔جب اللہ تعالیٰ نے ان کا صدق دیکھا تو ان کی توبہ کو قبول کر لیا اور ان سے عذاب دور کر دیا۔(الدر المنثور في التفسير بالماثور، سورة یونس آیت فلولا كَانَتْ قَرْيَةً أَمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَا نَهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ، جزء ۴ صفحه ۳۹۲) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا۔فَلْيَبْصُقُ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِلُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا وَلْيَتَحَوَّلَ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ " جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ نا پسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور شیطان سے تین بار اللہ کی پناہ مانگے اور چاہئے کہ اپنے اس پہلو کو تبدیل کرلے جس پر پہلے تھا۔“ نیز حضرت ابو قتادہ سے مروہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الرؤيا الصَّالِحَةُ مِنَ اللهِ وَالحُلُمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلُمَّا يَخَافُهُ فَلْيَنصُقُ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِن شَرِهَا فَإِنَّهَا لا تَضُرُّهُ " اچھا خواب الله کی جانب سے ہے اور براخواب شیطان کی طرف سے پس جب تم میں سے کوئی ایسا برا خواب دیکھے جو ڈراؤنا ہو تو (صحیح مسلم، کتاب الرؤيا، روایت نمبر ۲۲۶۲) (صحیح البخارى، كِتَابُ بَدهِ الخَلْقِ بَاب صِفَةُ إبْلِيسَ وَجُنُودِهِ، روایت نمبر (۳۲۹۲)