صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 238
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۳۸ ۹۱ - كتاب التعبير فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِهَا وَمِنْ شَرِّ جب ایسا خواب دیکھے جسے نا پسند کرتا ہو تو چاہیے الشَّيْطَانِ وَلْيَتْفِلْ ثَلَاثًا وَلَا يُحَدِّثْ کہ وہ اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور تین بار تھو سکے اور کسی سے بھی بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ۔اس کو بیان نہ کرے تو وہ قطعاً نقصان نہیں پہنچائے گی۔أطرافه: ۳۲۹۲، ٥٧٤٧، ٦٩٨٤، ٦٩٨٦ ٦٩٩٥، ٦٩٩٦، ٧٠٠٥۔٧٠٤٥: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ :۷۰۴۵: ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ ابن ابي حازم اور دراوری نے مجھے بتایا۔انہوں عَنْ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ عَنْ نے یزید بن عبد اللہ ) سے۔یزید نے عبد اللہ بن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ خباب سے، عبد اللہ نے حضرت ابوسعید خدری اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّهَا مِنَ عليه وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے : جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جس کو وہ پسند کرتا ہو تو اللهِ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے اس خواب کے دیکھنے پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کو بیان کرے اور اگر اُس نے اس کے سوا کوئی ایسا خواب دیکھا ہے جس کو ناپسند کرتا ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہی ہوتا ہے چاہیے کہ وہ اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے تو وہ پھر ہرگز اس کو نقصان نہ دے گی۔بِهَا وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ شَرِهَا وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ۔أطرافه: ٦٩٨٥- تشريح۔إِذَا رَأَى مَا يُكْرَة فَلَا يُرِيرُ بِهَا وَلَا يَذْكُرْهَا: جب کوئی ایسی خواب دیکھے جے ناپسند کرتا ہو تو وہ نہ کسی کو بتائے ، نہ کسی سے اس کا ذکر کرے۔بعض خواہیں جنہیں انسان نا پسند کرتا ہے اور ان سے خوف زدہ ہو تا ہے۔اور عام خیال یہی ہوتا ہے کہ یہ شیطان کی طرف سے دکھائی گئی ہیں یا انسان کے لاشعور میں جو خوف بیٹھے ہوتے ہیں وہ تحت الشعور سے خوابوں کی صورت میں انسان کے شعور میں آکر اس کے لیے