صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 237 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 237

صحیح البخاری جلد ۱۶ ج ۳۳۷ ۹۱ - كتاب التعبير جب وہ قتل، حد یا مال غصب کرنے کے متعلق گواہی کی صورت میں ہو۔لیکن اس کے باوجود جھوٹے خواب کو بڑا جھوٹ کہا گیا، کیونکہ یہ اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنا ہے اور اللہ تعالی پر جھوٹ مخلوق پر جھوٹ باندھنے سے بڑا گناہ ہے اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أُولَبِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلاء الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّلِمِينَ } (ھود:۱۹) اور اس سے زیادہ کون ظالم (ہو سکتا) ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور تمام گواہ کہیں گے (کہ) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔سنو! ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔اور جھوٹا خواب گھڑنا، اس لیے بھی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ہے کیونکہ حدیث میں خواب کو نبوت کا جزو قرار دیا گیا ہے اور جو نبوت کے حصے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔(فتح الباری جزء ۱۲ صفحہ ۵۳۵) حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رُؤْيَا الْمُؤْمِن جُزْءٌ مِن سِتَّةَ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ( صحیح بخاری، روایت نمبر ۵۳۵) یعنی مومن کا خواب نبوت کا چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔پس جھوٹا خواب گھڑنے والا گویا جھوٹا دعوی کرتا ہے کہ اس کو نبوت کے حصوں میں سے ایک حصہ ملا ہے۔بَاب ٤٦ : إِذَا رَأَى مَا يُكْرَهَ فَلَا يُخْبِرْ بِهَا وَلَا يَذْكُرْهَا جب کوئی ایسی خواب دیکھے جسے نا پسند کرتا ہو تو وہ نہ کسی کو بتائے ، نہ کسی سے اس کا ذکر کرے ٧٠٤٤: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبيع ۷۰۴۴: سعید بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبدربہ بن سعید قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يَقُولُ لَقَدْ سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا میں نے ابوسلمہ سے سناوہ کہتے تھے: میں بھی خواب دیکھا کرتا تھا كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي حَتَّى تو وہ مجھے بیمار کر دیتا۔آخر میں نے حضرت ابو قتادہ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ وَأَنَا كُنْتُ سے سنا وہ کہتے تھے اور میں بھی خواب دیکھا کرتا لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي حَتَّى سَمِعْتُ تھا تو وہ مجھے بیمار کر دیتا۔یہاں تک کہ میں نے نبی النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صلى اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اچھا خواب اللہ کی الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللهِ فَإِذَا رَأَى طرف سے ہوتا ہے اس لئے جب تم میں سے أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا کوئی ایسا خواب دیکھے جسے پسند کرتا ہو تو وہ یہ مَنْ يُحِبُّ وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ خواب اس کو بتائے جس سے محبت رکھتا ہے اور