صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 236 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 236

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۳۶ ۹۱ - كتاب التعبير صَوَّرَ صُورَةً وَمَنْ تَحَلَّمَ وَمَن سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا میں نے عکرمہ اسْتَمَعَ۔حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ سے سنا کہ حضرت ابوہریرہ نے کہا اور ان کا قول عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ یوں نقل کیا جس نے مورت بنائی اور جس نے قَالَ مَنِ اسْتَمَعَ وَمَنْ تَحَلَّمَ وَمَنْ خواب گھڑی اور جس نے کان لگا کر سنا۔اسحاق صَوَّرَ۔۔نَحْوَهُ تَابَعَهُ هِشَامٌ عَنْ (بن) شاہین واسطی) نے ہم سے بیان کیا کہ خالد عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔۔قَوْلَهُ۔(طحان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد (حذاء) سے، اُنہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔انہوں نے بھی اسی طرح کہا جس نے کان لگا کر سنا اور جس نے خواب بنایا اور جس نے مورت بنائی۔۔۔خالد حذاء کی طرح ہشام نے بھی عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے ان کا یہ قول روایت کیا۔٧٠٤٣: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ۷۰۴۳: علی بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ عبد الصمد نے ہمیں بتایا۔عبد الرحمن بن عبد اللہ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔عبد الرحمن نے ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ اپنے باپ سے جو حضرت ابن عمرؓ کے غلام تھے۔رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے حضرت ابن عمر سے روایت کی کہ قَالَ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُرِيَ عَيْنِهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب بہتانوں میں سے بڑا بہتان یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو مَا لَمْ تَرَ۔وہ دکھائے جو اُنہوں نے نہیں دیکھا۔تشریح: م مَنْ كَذَبَ فِي حُلُمهِ : جس نے اپنی خواب کے متعلق جھوٹ بولا۔علامہ ابن حجر نے فتح الباری میں طبری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ کبھی بیداری میں جھوٹ بولنے کا فساد بہت زیادہ ہوتا ہے، فتح الباری مطبوعہ بولاق میں الفاظ ان مین ہیں۔(فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۵۳۴)