صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 229 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 229

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۲۹ ۹۱ - كتاب التعبير ہے مگر چونکہ خواب کی تعبیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تھی، الہامی نہیں تھی آپ نے اکثریت کی رائے کو تسلیم کر لیا اور لڑائی کے لئے باہر جانے کا فیصلہ کر دیا۔جب آپ باہر نکلے تو نوجوانوں کو اپنے دلوں میں ندامت محسوس ہوئی اور انہوں نے کہا یار سول اللہ !جو آپ کا مشورہ ہے وہی صحیح ہے ہمیں مدینہ میں ٹھہر کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے۔آپ نے فرمایا خدا کا نبی جب زرہ پہن لیتا ہے تو اُتارا نہیں کرتا اب خواہ کچھ ہو ہم آگے ہی جائیں گے۔اگر تم نے صبر سے کام لیا تو خدا کی نصرت تم کو مل جائے گی۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم، جلد ۲۰، صفحه ۲۴۸٬۲۴۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” حدیث میں ایسی غلطی کے بارے میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے اور وہ یہ ہے قال ابو موسی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم رأيت في المنام انى اهاجر من مكة الى ارض بها نخل فذهب وهلى الى انها اليمامة او هجر فاذا هي المدينة يثرب۔یعنی ابو موسی سے روایت ہے جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کرتا ہوں جس میں کھجوریں ہیں پس میر اوہم اس طرف گیا کہ وہ یمامہ یا ہجر ہو گا مگر آخر وہ مدینہ نکلا جس کو یثرب بھی کہتے ہیں۔اس حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پر فرما دیا کہ کشفی امور کی تعبیر میں انبیاء سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔اور ان احادیث سے بخوبی ظاہر ہو گیا کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کی نسبت پیشگوئیاں فرمائی ہیں حقیقت میں وہ سب مکاشفات نبویہ ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مذکورہ بالا میں صریح اور صاف طور پر اس بات کی طرف اشارہ بھی کر دیا کہ ان مکاشفات کو صرف ظاہر پر حمل نہ کر بیٹھنا ان کی روحانی تعبیریں ہیں اور یہ سب امور اکثر روحانی ہیں جو ظاہری اشکال میں متمثل کر کے دکھلائے گئے ہیں مگر افسوس کہ ہمارے آج کل کے علماء ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم