صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 230 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 230

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۳۰ ۹ - كتاب التعبير کے نقش قدم پر چلنا نہیں چاہتے اور خواہ نخواہ کشفی استعارات کو حقیقت پر حمل کرنا چاہتے ہیں۔واضح ہو کہ عالم کشف میں بڑے بڑے عجائبات ہو تے ہیں اور رنگارنگ کی تمثیلات دکھائی دیتی ہیں بعض اوقات عالم کشف میں ایسی چیزیں مجسم ہو کر نظر آجاتی ہیں کہ دراصل وہ روحانی ہوتی ہیں اور بعض وقت انسان کی شکل پر کوئی چیز دکھائی دیتی ہے اور دراصل وہ انسان نہیں ہوتا۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن، جلد ۳، صفحه ۲۰۴ تا ۲۰۵) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: استعارات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکاشفات اور خوابوں میں پائے جاتے ہیں وہ حدیثوں کے پڑھنے والوں پر مخفی اور پوشیدہ نہیں ہیں کبھی کشفی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں میں دو سونے کے کڑے پہنے ہوئے دکھائی دئے اور اُن سے دو کذاب مراد لئے گئے جنہوں نے جھوٹے طور پر پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا اور کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رؤیا اور کشف میں گائیاں ذبح ہوتی نظر آئیں اور ان سے مراد وہ صحابہ تھے جو جنگ اُحد میں شہید ہوئے اور ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ ایک بہشتی خوشہ انگور ابو جہل کے لئے آپکو دیا گیا ہے تو آخر اُس سے مراد عکرمہ نکلا اور ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کشفی طور پر نظر آیا کہ گویا آپ نے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کی ہے کہ وہ آپ کے خیال میں یمن تھا۔مگر در حقیقت اس زمین سے مراد مدینہ منورہ تھا۔ایسا ہی بہت سی نظیریں دوسرے انبیاء کے مکاشفات میں پائی جاتی ہیں کہ بظاہر صورت اُن پر کچھ ظاہر کیا گیا اور دراصل اس سے مراد کچھ اور تھا سو انبیا کے کلمات میں استعارہ اور مجاز کا دخل ہونا کوئی شاذ و نادر امر نہیں ہے “۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ حاشیه صفحه ۱۳۳)