صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 228
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۲۸ ۹۱ - كتاب التعبير إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوِ الهَجَرُ فَإِذَا هِيَ دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف الْمَدِينَةُ يَقْرِبُ وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا وَاللَّهِ ہجرت کرکے جارہا ہوں کہ جہاں کھجور کے خَيْرٌ فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ درخت ہیں تو میرا خیال اس طرف گیا وہ یمامہ یا وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ حجر ہے۔ پھر کیا دیکھا کہ وہ مدینہ یثرب ہے اور میں نے اس میں کچھ گائیں دیکھیں اور کوئی یہ وَثَوَابِ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بِهِ بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ۔ أطرافه: ٣٦٢٢، ۳۹۸۷، ٤٠٨١، ٧٠٤١۔ کہہ رہا ہے) کہ اللہ کی قسم! یہ خیر ہے۔ (محض بھلائی ہے۔) تو کیا معلوم ہوا کہ اس سے مراد وہ مؤمن ہیں جو جنگ احد میں (شہید) ہوئے اور وہ خیر وہی خیر ہے جو اللہ لایا اور وہ سچائی کا بدلہ ہے جو اللہ نے جنگ بدر کے بعد ہمیں عطا کیا۔ تشريح : إذا رأي إِذَا رَأَى بَقَرًا تُنْحَرُ : اگر گائیاں ذبح ہوتے دیکھے۔ حضرت مصلح موعود رض موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ فرمایا خواب میں میں نے چند گائیں دیکھی ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ میری تلوار کا سر اٹوٹ گیا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ وہ گائیں ذبح کی جارہی ہیں اور پھر یہ کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط اور محفوظ زرہ کے اندر ڈالا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میں ایک مینڈھے کی پیٹھ پر سوار ہوں۔ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے ان خوابوں کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ نے فرمایا گائے کے ذبح ہونے کی تعبیر یہ ہے کہ میرے بعض صحابہ شہید ہوں گے اور تلوار کا سرا ٹوٹنے سے مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ میرے عزیزوں میں سے کوئی اہم وجود شہید ہو گا یا شاید مجھے ہی اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے کی تعبیر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارا مدینہ میں ٹھہر نا زیادہ مناسب ہے اور مینڈھے پر سوار ہونے والے خواب کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ کفار کے لشکر کے سردار پر ہم غالب آئیں گے یعنی وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔ گو اس خواب میں مسلمانوں پر یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ اُن کا مدینہ میں رہنا زیادہ اچھا