صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 213 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 213

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۱۳ ۹۱ - كتاب التعبير۔تَرعُ الذُّنُوبَ وَالذَّنُوبَيْنِ مِنَ الْبِرِ بضعف: ایک یا دو ڈول کمزوری کے ساتھ کھینچ کر کنوئیں سے نکالنا۔خطابی کا قول ہے کہ اہل عرب کے نزدیک پانی پلانا اور ڈول بھر بھر کر نکالنا، فخر اور غلبہ کے اظہار کے لیے بطور ضرب المثل ہے۔جب کہتے ہیں کہ فلاں کو ڈول بھر بھر کر پلا رہا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں کہ وہ اس کے معاملات کا انتظام کر رہا ہے اور اس پر غالب ہے۔علامہ ابن بطال کہتے ہیں کہ اس رویا سے (اللہ تعالیٰ کا) حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی خلافت کو ثابت کرنے ، ان کی مدت خلافت بتانے اور ان کے دور خلافت میں امت کے حالات کو بیان کرنے کا ارادہ دکھائی دیتا ہے۔مسلمانوں کے معاملات کو کنوئیں سے تشبیہ دی گئی ہے، جیسا کہ اس میں موجود پانی پر لوگوں کی زندگی اور شہروں کی بہبودی کا مدار ہوتا ہے اور ان کے والی اور امور کے نگر ان کو ایسے شخص سے تشبیہ دی گئی ہے جو پانی پلانے کے لیے کھینچ کر نکالتا ہے۔حضرت ابو بکر کا ایک ڈول یا دو ڈول کمزوری کے ساتھ نکالنے میں ان کی مدت خلافت کے کم ہونے کی طرف اشارہ ہے ، گویا کہ دو ڈول آپ کے دور خلافت کے دو سال اور چند ماہ کے مثل ہیں۔آپ کا دور مرتدین سے قتال کرنے اور دعوت و تبلیغ کرنے والوں کے لیے امن و صلح کے قیام میں ہی کٹ گیا اور آپ کو شہر فتح کرنے اور اموالِ غنیمت حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔پس آپ کے کھینچنے میں ضعف سے یہی مراد ہے۔اور حضرت عمر کا دور لمبا تھا اور آپ کی حکومت بھی وسیع ہو گئی تھی۔اللہ تعالی نے عراق، افریقہ ، مصر اور شام کے بہت سے شہر آپ کے ہاتھ پر فتح کروائے۔جن سے اموالِ غنیمت حاصل ہو کر مسلمانوں میں تقسیم ہوئے، جن سے اُن کے گھروں میں فراخی اور شادابی آئی اور وہ خوش حال ہو گئے۔پس آپ کے کھینچنے کی عمدگی اسی بات کی تمثیل ہے جو لوگوں نے آپ کے عہد میں خیر و برکت کو پایا۔واللہ اعلم۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: (شرح صحیح البخاری لابن بطال، جزء ۹ صفحه (۵۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک رؤیا کا ذکر ہے جس کی تعبیر واقعات نے ظاہر کر دی ہے کہ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں گے اور وہ اپنے عہد خلافت میں ایسے جوانمردوں کی طرح خدمت انجام دیں گے کہ ان سا کوئی جوانمرد نہ ہو گا۔“ (صحيح البخاري، کتاب فضائل أصحاب النبي ، باب قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ لَوْ كُنتُ مُتَّخِذًا۔۔، جلد، صفحه ۱۷۱) باب ۳٠: الْإِسْتِرَاحَةُ فِي الْمَنَامِ خواب میں آرام لینا ۷۰۲۲: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۷۰۲۲: اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ