صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 212
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۱۲ ٩١ - كتاب التعبير فِي النَّاسِ مَنْ يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّی اور اُن کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ ان کی کمزوری پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے اُن سے درگزر ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ۔ کرے۔ پھر ابن خطاب کھڑے ہوئے اور وہ ڈول چرسے میں تبدیل ہو گیا۔ میں نے لوگوں میں کوئی نہیں دیکھا جو ان کا ساحیرت انگیز کام کرتا ہو۔ اتنا پانی نکالا کہ لوگ سیر ہو کر اس أطرافه: ٣٦٣٣، ٣٦٧٦، ٣٦٨٢، ٧٠١٩۔ گھاٹ کے آس پاس جا بیٹھے۔ ۷۰۲۱ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ۷۰۲۱ : سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا عقیل نے مجھ سے عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ أَنَّ أَبَا بیان کیا۔ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ نے هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنوئیں عَلَى قَلِيبٍ وَعَلَيْهَا دَلْوْ فَنَزَعْتُ پر دیکھا اور اس پر ایک ڈول دھرا ہے۔ تو میں نے مِنْهَا مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي اس کنوئیں سے جتنا اللہ نے چاہا پانی کھینچ کر نکالا۔ قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ پھر ابو قحافہ کے بیٹے نے اس ڈول کو لیا اور کنوئیں وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ سے ایک یا دو ڈول نکالے اور ان کے کھینچنے میں اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا عُمَرُ بْنُ کچھ کمزوری تھی۔ اللہ ان کی کمزوری پر پردہ پوشی الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ فرماتے ہوئے ان سے درگزر فرمائے۔ پھر وہ ڈول ایک چرسہ میں تبدیل ہو گیا تو پھر عمر بن يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى خطاب نے اسے لیا اور میں نے لوگوں میں سے ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ۔ أطرافه: ٣٦٦٤، ٧٠٢٢، ٧٤٧٥۔ کوئی ایسا شہ زور نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب کی طرح پانی نکالتا ہو۔ اتنا پانی نکالا کہ لوگ سیر ہو کر گھاٹ کے آس پاس اپنے تھانوں میں اطمینان سے جا بیٹھے۔