صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 207
۲۰۷ صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱ - كتاب التعبير جس پر دین کے معاملہ میں اعتماد کیا جاسکے۔انہوں نے لفظ عمود کی تفسیر دین اور غلبہ بیان کی ہے۔اور خیمہ کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ جس نے یہ دیکھا کہ اس کا خیمہ لگایا گیا ہے تو ( تعبیر ہو گی کہ ) وہ غلبہ پائے گا، یا اگر کسی بادشاہ سے لڑائی ہو گی تو کامیاب ہو گا۔امام بخاری نے اس باب میں کوئی حدیث بیان نہیں کی۔لیکن علامہ ابن حجر نے اس باب کی شرح کرتے ہوئے طبرانی، حاکم اور ابن عساکر کی بعض ایسی روایات نقل کی ہیں جن میں خیمے اور ستون خواب میں دیکھنے کا ذکر ہے۔اس بارہ میں شارحین کا نقطہ نظریہ ہے کہ جب کسی روایت کی سند امام بخاری کے معیار کے مطابق قابل قبول نہیں ہوتی تو بسا اوقات آپ اس کے متعلق عنوان تو قائم کر دیتے ہیں لیکن سند کی کمزوری کی وجہ سے اس روایت کو اپنی صحیح میں نہیں لاتے۔(فتح الباری جزء ۱۲ صفحه ۵۰۳،۵۰۲) بَاب ٢٥ : الْإِسْتَبْرَقُ وَدُخُولُ الْجَنَّةِ فِي الْمَنَامِ خواب میں استبرق دیکھنا اور بہشت میں داخل ہونا ٧٠١٥: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ :۷۰۱۵ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ وهب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ایوب سے ، ایوب نے نافع سے ، نافع نے حضرت رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي سَرَقَةً ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔اُنہوں نے مِنْ حَرِيرٍ لَا أَهْوِي بِهَا إِلَى مَكَانٍ کہا: میں نے خواب میں دیکھا جیسے میرے ہاتھ میں ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے۔میں جنت میں جس جگہ بھی جانا چاہتا ہوں وہ مجھے اُڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے۔یہ خواب میں نے حضرت حفصہ کے فِي الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ۔سامنے بیان کیا۔أطرافه: ٤٤٠، ١١٢١، ۱۱٥٦، ۳۷۳۸، ۳۷۰، ۷۰۲۸، ۷۰۳۰- ٧٠١٦: فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى ۷٠١٦ تو حضرت حفصہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ کے سامنے اس کو بیان کیا۔آپ نے فرمایا: تیرا أَحَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ قَالَ إِنَّ عَبْدَ بھائی نیک شخص ہے یا فرمایا: عبد الله نیک شخص اللهِ رَجُلٌ صَالِحٌ۔ہے۔أطرافه: ۱۱۲۲ ،۱۱۵۷ ،۳۷۳۹، ۳۷۱، ۷۰۲۹، ۷۰۳۱-