صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 203
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۰۳ ۹۱ - كتاب التعبير ماتحت کئے گئے؛ چنانچہ آپ کا خواب بھی یہی ظاہر کرتا ہے جس میں آپ کو صرف حضرت عائشہ کی تصویر دکھائی گئی تھی اور یہ الفاظ کہے گئے تھے کہ ”اب تیری یہ بیوی ہے دُنیا اور آخرت میں۔“ اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے خاص محبت تھی۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ کسی نے آپ سے دریافت کیا : ”آئمی النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ “ یعنی ” یارسول الله ! لوگوں میں سے آپ کو کس سے زیادہ محبت ہے ؟ آپ نے فرمایا: "عائشہ سے “۔اس نے پوچھا ” یارسول اللہ مردوں میں سے کس سے زیادہ ہے ؟“ فرمایا: ابوھا۔عائشہ کے باپ سے۔“ حضرت عائشہ اور حضرت سودہ کا نکاح شوال ۱۰ نبوی میں ہوا تھا اور عام روایات کے مطابق حضرت سودہ کے نکاح کی رسم حضرت عائشہ کے نکاح سے چند روز پہلے وقوع میں آئی تھی۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچاس سال سے اوپر تھی۔66 (سیرت خاتم النبيين على ال ، صفحہ ۱۹۷ تا ۲۰۰ ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مقامات میں ظاہر فرما دیا کہ جو کچھ میرے پر کشفی طور پر کھلتا ہے جب تک منجانب اللہ قطعی اور یقینی معنے اس کے معلوم نہ ہوں میں ظاہر پر حمل نہیں کر سکتا۔مثلاً اس حدیث کو دیکھو۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ تو خواب میں مجھے دودفعہ دکھائی گئی اور میں نے تجھے ایک ریشم کے ٹکڑے پر دیکھا اور کہا گیا کہ یہ تیری عورت ہے اور میں نے اس کو کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تُو ہی ہے اور میں نے کہا کہ اگر خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی تعبیر ہے جو میں نے سمجھی ہے تو ہو رہے گی یعنی خوابوں اور مکاشفات کی تعبیر ضرور نہیں کہ ظاہر پر ہی واقعہ ہو کبھی تو ظاہر پر ہی واقعہ ہو جاتی ہے اور کبھی غیر ظاہر پر وقوع میں آتی ہے سو اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب کی سچائی میں شک نہیں کیا کیونکہ نبی کی خواب تو ایک قسم کی وحی ہوتی ہے بلکہ اس کی طرز وقوع میں ترڈ د بیان کیا ہے کہ خدا جانے اپنی ظاہری صورت کے لحاظ سے وقوع میں آوے یا اُس کی اور کوئی تعبیر پیدا ہو