صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 202
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۲۰۲ ۹۱ - كتاب التعبير پانچویں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ اول المومنین اور افضل المسلمین کی صاحبزادی تھیں جس کی وجہ سے ان کی تربیت نہایت اعلیٰ اور کامل اور شعارِ اسلامی کے عین مطابق ہوئی تھی اور اس لیے وہ عورتوں میں نمونہ بننے کے خاص طور پر قابل تھیں۔ان وجوہات سے حضرت عائشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ بننے کے اسطے سب سے بڑھ کر مناسب تھیں اور انہی وجوہ کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے آپ کے واسطے ان کو پسند فرمایا؛ چنانچہ یہ باتیں اپنا پھل لائیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے وجود سے امت محمدیہ کو بڑے بڑے فائدے پہنچے ہیں۔احادیث کا وہ حصہ جو عورتوں کے مسائل سے تعلق رکھتا ہے زیادہ تر حضرت عائشہ ہی کے اقوال و روایات پر مبنی ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ عام دینی مسائل میں بھی ان کو ایک خاص مرتبہ حاصل ہے؛ چنانچہ روایت آتی ہے کہ : كَانَ الْأَكَابِرُ مِنْ صحَابَةِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجِعُونَ إِلَى قَوْلِهَا يَسْتَفْتُونَهَا۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے صحابہ بھی حضرت عائشہ کے قول کی طرف رجوع کرتے اور ان سے فتویٰ پوچھتے تھے۔" غرض اصل اور مستقل تجویز آپ کی حضرت عائشہ سے تھی اور وہی اس منصب عالی کے لائق تھیں۔باقی رہی حضرت سودہ بنت زمعہ کی شادی۔سو جیسا کہ ہم اُوپر بیان کر چکے ہیں وہ ایک قربانی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی۔کیونکہ یہ شادی ایک خاص مرتبیانہ اصول کے ماتحت تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دلی محبت اور قلبمی توجہ اور حقیقی مہربانی کا ایک بین ثبوت ہے جو آپ ان مصائب کے زمانہ میں اپنے خدام اور ان کے پسماندگان کے حال پر فرماتے تھے اور یہ بات حضرت سودہ کی ہی شادی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جیسا کہ آگے چل کر اپنے اپنے موقع پر ظاہر ہو جائے گا حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ کے نکاح کے سوا جو کہ خود بالذات مقصود تھا باقی جتنے بھی نکاح آپ نے کیسے وہ سب خاص حالات ، خاص ضروریات اور خاص مصالح کے