صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 201
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۰۱ ۹ - كتاب التعبير تھوڑے ہی عرصہ بعد وہ مباشرت کے بالکل نا قابل ہو گئیں۔تیسرے اُن میں آپ کی زوجیت کے واسطے کوئی امتیازی قابلیت بھی نہ تھی اور نہ کوئی خاص وجہ کشش تھی۔پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اُن کا آپ کے حرم میں آنا یہ معنے رکھتا تھا کہ آپ اپنی اس بیوی پر ایک سوت لا رہے ہیں جو خدائی انتخاب کے ماتحت آپ کی زوجہ بنی تھی اور اس وجہ سے آپ کو بہت محبوب تھی اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اپنی محبوب بیوی پر کوئی شخص یو نہی بلا خاص وجہ کے سوت نہیں لایا کرتا۔پس حضرت عائشہ کے ہوتے ہوئے آپ کا حضرت سودہ جیسی عمر رسیدہ خاتون کے ساتھ نکاح کرنا صاف بتا رہا ہے کہ نعوذ باللہ یہ کوئی عیش و عشرت کا سامان نہ تھا جو آپ اپنے گھر لا رہے تھے بلکہ یہ ایک قربانی تھی جو آپ کو حالات پیش آمدہ کے ماتحت کرنی پڑی تھی۔پس آپ کی اصل اور مستقل تجویز حضرت عائشہ ہی کے لیے تھی جن کے متعلق خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہوا تھا اور وہی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے مناسب بھی تھیں کیونکہ : اول : وہ بالکل نو عمر لڑکی تھیں اور اس لیے پوری طرح اس قابل تھیں کہ اسلامی تعلیمات کو جلد، بآسانی اور بخوبی سیکھ کر ایک دینی معلمہ بن سکیں جو ایک شارع نبی کی بیوی کے واسطے ضروری ہے۔دوسرے: وہ نہایت درجہ ذہین اور ذکی تھیں جس کی وجہ سے دینی مسائل کے سیکھنے اور تفقہ فی الدین کے لیے نہایت مناسب تھیں۔تیسرے: بوجہ کم عمر ہونے کے ان کے متعلق بظاہر توقع تھی جو پوری بھی ہوئی کہ وہ ابھی بہت لمبی عمر پائیں گی اور اس طرح انہیں مسلمان عورتوں میں تعلیم و تربیت اور تبلیغ کا زیادہ موقع مل سکے گا۔چوتھے : اسلام ہی میں اُن کی پیدائش ہوئی تھی جس کی وجہ سے اسلامی تعلیم گویا اُن کی گھٹی میں پڑی تھی اور بچپن سے ہی اُنہوں نے اسلامی عادات و اطوار اچھی طرح سیکھ لیے تھے اور تعلیم اسلامی کا ایک بہت عمدہ نمونہ تھیں۔