صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 200 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 200

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۲۰۰ ۹۱ - كتاب التعبير صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمارے بھائی ہیں۔مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہلا بھیجا کہ دین کی اخوت سے رشتہ پر اثر نہیں پڑتا تو پھر انہیں کیا عذر ہو سکتا تھا بلکہ ان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی تھی کہ اُن کی بیٹی رسولِ خدا کی بیوی بنے۔اس کے بعد خولہ حضرت سودہ بنت زمعہ کے پاس گئیں۔وہ اور ان کے عزیز بھی راضی تھے۔لہذا شوال ۱۰ نبوی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان ہر دو کے ساتھ چار چار سو درہم مہر پر نکاح پڑھا گیا اور حضرت سودہ کا تو نکاح کے ساتھ ہی رُخصتانہ بھی ہو گیا۔لیکن چونکہ عائشہ کی عمر اس وقت صرف سات سال کی تھی اس لیے ان کا رخصتانہ ہجرت کے بعد تک ملتوی رہا۔اس موقع پر یاد رکھنا چاہیئے کہ جو جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں خديجة الکبری کی وفات سے خالی ہوئی تھی وہ دراصل حضرت عائشہ سے ہی پر ہوئی۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل تجویز حضرت عائشہ ہی کے متعلق تھی اور وہی آپ کو خواب میں بھی دکھائی گئی تھیں لیکن حضرت سودہ کا نکاح ایک خاص مصلحت اور خاص ضرورت کے ماتحت تھا اور وہ یہ کہ چونکہ یہ زمانہ مسلمانوں کے واسطے ایک سخت تکلیف اور مصیبت کا زمانہ تھا اور ظالم قریش کی طرف سے سب مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں پر جور و جفا کے تبر چل رہے تھے اور خصوصا بے یار و مددگار غرباء کے لیے تو یہ انتہائی مصائب کے دن تھے اس لیے ایسی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ گوارا نہ کیا کہ وہ صدمہ خوردہ اور غم رسیدہ بیوہ بغیر کسی انتظام کے چھوڑ دی جاوے اور اسلام کی وجہ سے مصیبت کے دن کاٹے اس لیے اور نیز اس لیے بھی کہ آپ نے مسلمانوں کو آپس میں محبت رکھنے اور ایک دوسرے کی ہمدردی اور مدد کرنے کا عملی سبق بھی دینا تھا۔جب آپ کے سامنے سورہ کا ذکر آگیا تو آپ نے بلا تامل یہی فیصلہ کیا کہ آپ انہیں خود اپنے سایہ عاطفت میں لے لیں اور یہ آپ کی طرف سے ایک قربانی تھی جو حالات پیش آمدہ کے ماتحت کی گئی۔کیونکہ اول تو سودہ ایک بیوہ تھیں۔دوسرے وہ اچھی عمر رسیدہ تھیں۔حتٰی کہ شادی سے