صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 199
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۹۹ ٩١ - كتاب التعبير عائشہ جبرائیل نے ریشم کے کپڑے میں لپٹی ہوئی دکھائی تھیں اور بتایا کہ یہ آپ کی زوجہ ہیں ۔ انبیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی خبروں میں اس قدر محتاط ہوتے ہیں کہ نفس کی کوئی ملونی اس میں شامل نہ ہو یہ انقطاع الی اللہ کا وہ مقام ہے جہاں انبیاء ہر امر اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں اور اُسی سے یہ اُمید رکھتے ہیں کہ اگر فی الواقعہ خدا کی طرف سے ہوگی تو اللہ تعالیٰ اپنی بات کو پورا کر دے گا آپ کی اس رویا کو اللہ تعالٰی نے سچا ثابت کر دیا اور حضرت عائشہ آپ کے عقد میں آئیں۔ یہ واقعہ کس طرح ہوا اس کی تفصیل میں حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے فرماتے ہیں: حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جلد ہی دوسری شادی کا خیال آنا آپ کے منصب نبوت کے لحاظ سے ایک طبعی امر تھا، مگر ایسے حالات میں ایک نبی کے واسطے بیوی کا انتخاب بھی کوئی آسان کام نہیں ہوتا کیونکہ کئی باتوں کو دیکھنا اور کئی امور کا لحاظ رکھنا ہوتا ہے لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں کہ وہ اس معاملہ میں آپ کا ہادی اور رہنما ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دُعا کوٹنا اور آپ کو ایک رؤیا کے ذریعہ اپنے انتخاب سے اطلاع دی؛ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ انہی ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور آپ کے سامنے ایک سبز رنگ کا ریشمی رومال پیش کر کے عرض کیا کہ ” یہ آپ کی بیوی ہے دُنیا اور آخرت میں۔“ آپ نے رومال لے کر دیکھا تو اس پر حضرت عائشہ بنت ابو بکر کی تصویر تھی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد خولہ بنت حکیم زوجہ عثمان بن مظعون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے عرض کیا کہ ”یا رسول اللہ آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟“ آپ نے فرمایا؟ کیس سے کروں؟“ اس نے عرض کیا کہ ” آپ چاہیں تو کنواری لڑکی بھی موجود ہے اور بیوہ عورت بھی۔“ آپ نے فرمایا؛ ”کون“ خولہ نے عرض کیا۔ کنواری تو آپ کے عزیز دوست ابو بکر صدیق کی لڑکی عائشہ ہے اور بیوہ سودہ بنت زمعہ ہے جو آپ کے خادم سکران بن عمر و مرحوم کی بیوہ ہے۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ ”اچھا تو پھر تم ان دونوں کے متعلق بات کرو؛ چنانچہ خولہ نے پہلے حضرت ابو بکر اور اُن کی اہلیہ اُتم رومان سے ذکر کیا۔ وہ پہلے بہت حیران ہوئے اور کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ آنحضرت