صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 180 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 180

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۱۸۰ ۹ - كتاب التعبير صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کی آخری منازل کسی اور شخص کی مدد سے طے ہوں۔“ ( تفسیر کبیر، سورة يوسف، زیر آیت وَقَالَ الَّذِي نَجَا مِنْهُمَا وَاذَكَرَ جلد ۳ صفحه ۳۱۹) ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذلِكَ سَبع شداد آپ مزید فرماتے ہیں: ” اس واقعہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یوسف علیہ السلام کے ساتھ مشابہت ہے۔جس طرح یوسف کے زمانہ میں سات سال کے قحط کی خبر دی گئی تھی اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے سات سال کے قحط کی خبر دی تھی۔جب مکہ والوں نے آپ کو بار بار عذاب لانے کے لئے کہا اور آپ پر طرح طرح کے اتہام لگائے تو جیسا کہ ابن مسعود سے صحیحین میں روایت ہے دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِی يُوسُفَ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخالفین کے لئے ویسے ہی سالوں کی دعا کی جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں گزرے تھے۔یعنی ویسے ہی شدید قحط کی آپ نے دعا کی۔چنانچہ حجاز میں سخت قحط پڑا اور سات سال تک رہا۔یہاں تک کہ بعض لوگ ان ایام میں مردار وغیرہ کھانے لگے اور صحتیں اس قدر بگڑ گئیں کہ آنکھوں کے آگے دھوئیں نظر آنے لگے۔آخر سات سال کی تکلیف کے بعد لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی کہ آپ مضر یعنی قبائل حجاز کے لئے دعا کریں کہ وہ بالکل تباہ ہو گئے ہیں۔آپ نے دعا کی اور آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے بارش کی اور قحط دور ہوا۔“ (تفسیر کبير، سورة يوسف زير آيت يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِيقُ افْتِنَا جلد ۳ صفحه ۳۲۰) قَالُوا أَضْغَاتُ أحلام حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انہوں نے کہا کہ یہ خواہیں بری بھی ہیں اور مخلوط بھی۔یعنی سچ اور جھوٹ ملا ہوا ہے۔دماغی دخل سے پاک نہیں ہیں۔اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں کہی جاسکتیں اس لئے ایسی خوابوں کی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔کیونکہ جب تک جھوٹ اور سچ الگ الگ نہ ہو تعبیر کے متعلق حکم نہیں لگایا جاسکتا۔یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ ہم احلام کی تعبیر نہیں جانتے اس کا یہ مطلب نہیں کہ بری خوابوں کی تعبیر ہم نہیں کر سکتے بلکہ احلام کے اوپر جوال ہے وہ عہد ذہنی کا ہے یعنی اس سے