صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 179
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۷۹ ۹۱ - كتاب التعبير معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو اپنی رویا پر اس قدر یقین تھا کہ وہ صرف تعبیر ہی نہیں پوچھتا بلکہ یہ پوچھتا ہے کہ بتاؤ تعبیر معلوم ہو چکنے کے بعد کرنا کیا چاہئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رویا ایسی وضاحت اور ہیبت کے ساتھ دکھائی تھی کہ اس کا نقشہ اس کے دل پر اثر کر گیا تھا۔ پس وہ مجبور تھا کہ اسے سچا سمجھے اور اس کے نتائج سے بچنے کی کوشش کرے۔ اگر اس شان سے رویا نہ ہوتی اور اس کے دل پر گہرا اثر نہ ہوتا تو وہ دربار میں اس کا ذکر نہ کرتا اور حضرت یوسف علیہ السلام کی رہائی کی صورت نہ پیدا ہوتی۔“ ( تفسير كبير ، سورة يوسف، زیر آیت وَقَالَ الْمَلِكُ إِلى أَرى سَبْعَ بَقَرَاتٍ جلد ۳ صفحه ۳۱۷) وَقَالَ الَّذِي نَجَا مِنْهُمَا آپؐ مزید فرماتے ہیں: رو جب وہ لوگ اس خواب کی تعبیر نہ کر سکے اور انہوں نے پراگندہ خواب کہہ کر جس میں خیالات کی ملونی ہو گئی ہو اپنا پیچھا چھڑایا تو اس شخص کو اپنا اور اپنے ساتھی کا خواب یاد آیا اور خیال گزرا کہ ہمارے خواب بھی بظاہر پراگندہ معلوم دیتے تھے لیکن یوسف علیہ السلام نے ان کی معقول تعبیر کی اور اسی طرح ہو گیا۔ ممکن ہے وہ ان خوابوں کی بھی تعبیر کر سکیں اور امراء دربار سے اجازت چاہی کہ اگر مجھے جانے کی آپ لوگ اجازت دیں تو میں جا کر اس خواب کی تعبیر پوچھ آتا ہوں۔ زبیر پوچھ آتا ہوں اس امر پر تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ بادشاہ امراء دربار سے تعبیر کیوں پوچھتا ہے ؟ کیونکہ پرانے زمانہ میں کاہنوں اور مذہبی آدمیوں کا خاص زور ہوتا تھا اور انہی میں سے عام طور پر امراء دربار مقرر کئے جاتے تھے۔ اس آیت کے متعلق یہ لطیف امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کامیابی تو یوسف علیہ السلام کو بھی ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مگر طریق کامیابی دونوں کے الگ الگ تھے۔ یوسف علیہ السلام کو دوسروں کے ذریعہ سے ترقی دلائی تھی اس لئے ان کے لئے دوسروں کو ہی خواب دکھائی۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ بلاواسطہ تر ترقیات ملنی تھیں اس لئے ان کی ترقی کی خبر بھی براہ راست انہی کو ملتی رہی اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں پسند کیا کہ محمد رسول اللہ