صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 181 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 181

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۸۱ ٩١ - كتاب التعبير اشارهہ أَضْغَاتُ احلام کی طرف ہے اور مراد یہ ہے کہ جس قسم کی پراگندہ خوابوں کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں ویسی خوابوں کی تعبیر ہم نہیں کر سکتے نہ یہ کہ خالی ڈراؤنی خواب کی تعبیر ہم نہیں کر سکتے۔“ ( تفسیر کبیر، سورة يوسف، زیر آیت قَالُوا أَضْغَاتُ احْلامٍ ، جلد ۳ صفحه ۳۱۸) سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِبَانٍ حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ارزانی کے دنوں میں کیا سات ہی گائیں موٹی ہوتی ہیں؟ نمونہ تھا اسی طرح دجال۔ نبی کریم کو اس قوم دجال کا ایک نمونہ دکھایا گیا۔ دوم۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر کی رویا بھی بچی نکل آتی ہے۔ فاسق کی بھی۔ بچے کی بھی۔“ حقائق الفرقان، جلد ۲ صفحہ ۳۹۷) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خواب کبھی بالکل نظارہ کے مطابق ہوتا ہے۔ جیسے عصر خمر کا خواب کبھی آدھا اس طرح اور آدھا اور رنگ میں جیسے یوسف کا خواب کہ دیکھے ستارے، نکلے بھائی۔ “ (حقائق الفرقان، جلد ۲ صفحہ ۳۹۶) يُوسُفُ أَيُّهَا الصَّدِيقُ افْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانِ : یوسف اے راستباز ! ہمیں سات موٹی گائیوں کی تعبیر بتاؤ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مصر کے بادشاہ فرعون نے حضرت یوسف علیہ السلام کو صدیق کا خطاب دیا کیونکہ بادشاہ نے جب دیکھا کہ اس شخص نے صدق اور پاک باطنی اور پرہیز گاری کے محفوظ رکھنے کے لئے باراں ۱۲ برس کا جیل خانہ اپنے لئے منظور کیا مگر بدکاری کی درخواست کو نہ مانا۔ بلکہ ایک لحظہ کیلئے بھی دل پلید نہ ہوا۔ تب بادشاہ نے اس راستباز کو صدیق کا خطاب دیا جیسا کہ قرآن شریف سورہ یوسف میں ہے: يُوسُف أَيُّهَا الصَّدِّيقُ (یوسف: ۴۷) معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خطابوں میں سے پہلا خطاب وہی تھا جو حضرت یوسف کو ملا۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن، جلد ۱۵ حاشیه صفحه ۵۰۳) لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِكَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِی لَأَجَبْتُهُ: اگر میں قید خانے میں اتنی دیر رہتا جتنی دیر یوسف علیہ السلام رہے۔ پھر بلانے والا آتا تو میں اس انے والا آتا تو میں اس کی بات مان لیتا۔