صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 178 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 178

صحیح البخاری جلد ۱۶ دنیایی IZA ۹۱ - كتاب التعبير ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے چاروں ویدوں کو نازل کر کے پھر یکلخت ہمیشہ کے لئے الہامات کی صف کو لپیٹ دیا ہے۔مگر خدائے تعالیٰ کا قانونِ قدرت انہیں ملزم کرتا ہے جبکہ وہ بچشم خود دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ انکشافات غیبیہ کا اب تک جاری ہے اور انمیں سے فاسق آدمی بھی کبھی کبھی سچی خواہیں دیکھ لیتے ہیں۔پس ظاہر ہے کہ وہ خدا جس نے اپنا روحانی فیض نازل کرنے سے اس زمانہ کے فاسقوں اور ستوں کو بھی محروم نہیں رکھا اور ان پر بھی باوجود فقدان کامل مناسبت کے کبھی کبھی رشحاتِ فیض نازل کرتا ہے تو اپنے نیک بندوں پر جو اسکی کامل مرضی پر چلیں اور اکمل اور اتم طور پر اس سے مناسبت رکھیں کیا کچھ نازل کرتا نہیں ہو گا اور ایک بھید اس تخمی مشارکت میں یہ ہے کہ تاہر یک شخص گو وہ کیسا ہی فاسق بد کاریا کافر خونخوار ہو اس مشارکت پر غور کرنے سے سمجھ لیوے کہ خدائے تعالیٰ نے اُسے ہلاک کرنے کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ اُس نے اُس کے اندر ایک ترقی کی راہ رکھی ہے اور اسکو بھی تخم کے طور پر ایک نمود دیا ہے جس میں وہ آگے قدم پڑھا سکتا ہے اور وہ فطر تا خدائے تعالیٰ کے خوان نعمت سے محروم نہیں ہیں۔ہاں اگر آپ بے راہی اختیار کر کے اس نور کو جو اسکے اندر رکھا گیا ہے غیر مستعمل چھوڑ کر آپ محروم بن جائے اور ان طبعی طریقوں کو جو نجات پانے کے طریق ہیں دیدہ و دانستہ چھوڑ دیوے تو یہ خود اس کا ساختہ پر داختہ ہے جس کا بد نتیجہ اسے بھگتنا پڑے گا۔“ ( توضیح مرام، روحانی خزائن، جلد ۳ صفحه ۱۳۹۴ ۹۸) وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُ نَاجِ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ظن کا لفظ اس لئے کہا کہ غیر نبی کی خواب کتنی بھی یقینی کیوں نہ ہو شبہ سے خالی نہیں ہو سکتی اور اس کو ظن سے ہی بیان کیا جاسکتا ہے۔صرف نبی ہی کی یہ شان ہے کہ اس کے الہام پر قسم کھائی جاسکتی ہے کہ وہ سچا ہے اور کسی کے الہام یا خواب کو یہ شرف حاصل نہیں اور یہ بھی نبی اور غیر نبی کے الہام میں ایک فرق ہے۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ یوسف، زیر آیت وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُ نَاجِ مِنْهُمَا جلد ۳ صفحه ۳۱۶) وَقَالَ الْمَلِكُ إلى آری سَبْعَ بقرات آپ مزید فرماتے ہیں: