صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 177 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 177

صحیح البخاری جلد ۱۶ 122 ۹۱ - كتاب التعبير اور عام کی خواہیں اور وہ مکاشفات اپنی کیفیت اور کمیت اتصالی و انفصالی میں ہرگز برابر نہیں ہیں۔جو لوگ خدائے تعالی کے خاص بندے ہیں وہ خارق عادت کے طور پر نعمت غیبی کا حصہ لیتے ہیں۔دُنیا اُن نعمتوں میں جو انہیں عطا کی جاتی ہیں صرف ایسے طور کی شریک ہے جیسے شاہ وقت کے خزانہ کے ساتھ ایک گدا دریوزہ گر ایک درم کے حاصل رکھنے کی وجہ سے شریک خیال کیا جائے لیکن ظاہر ہے کہ اس ادنی مشارکت کی وجہ سے نہ بادشاہ کی شان میں کچھ شکست آسکتی ہے اور نہ اس گدا کی کچھ شان بڑھ سکتی ہے اور اگر ذرہ غور کر کے دیکھو تو یہ ذرّہ مثال مشارکت ایک کرم شب تاب بھی جس کو پٹ بیجنا یا جگنو بھی کہتے ہیں آفتاب کے ساتھ رکھتا ہے تو کیا وہ اس مشارکت کی وجہ سے آفتاب کی عزت میں سے کوئی حصہ لے سکتا ہے۔سو جانا چاہیے کہ در حقیقت تمام فضیلتیں باعتبار اعلیٰ درجہ کے کمال کے جو کمیت اور کیفیت کی رو سے حاصل ہو پیدا ہوتی ہیں یہ نہیں کہ ایک حرف کی شناخت سے ایک شخص فاضل اجل کا ہم پایہ ہو جائے گا یا اتفاقاً ایک مصرعہ بن جانے سے بڑے شاعروں کا ہم پلہ کہلائے گا۔ذرہ مثال شراکت سے کوئی نوع حکمت یا حکومت کی خالی نہیں۔اگر ایک بادشاہ سارے جہان کی حکومت کرتا ہے تو ایسا ہی ایک مزدور آدمی اپنی جھونپڑی میں اپنے بچوں اور اپنی بیوی پر حاکم ہے۔رہی یہ بات کہ خدائے تعالیٰ نے نیک بختوں اور بد بختوں میں مشارکت کیوں رکھی اور تخم کے طور پر غافلین کے گروہ کو نعمت غیبی کا کیوں حصہ دیا۔اسکا جواب یہ ہے کہ الزام اور اتمام حجت کے لئے تا اس تخمی شراکت کی وجہ سے ہر یک منکر کاموں کی حالت کا گواہ ہو جائے کیونکہ جب کہ وہ اپنے چھوٹے سے دائرہ استعداد میں کچھ نمونہ ان باتوں کا دیکھتا ہے جو ان کاملوں کی زبان سے سنتا ہے پس اس تھوڑی سی جھلک کی وجہ سے اسکے لئے یہ ممکن نہیں کہ اپنے سچے دل سے ان الہامی امور کو بکلی غیر ممکن سمجھے۔سو وہ اس روحانی خاصیت کا ایک ذرا سانمونہ اپنے اندر رکھنے کی وجہ سے خدائے تعالیٰ کے الزام کے نیچے ہے جس کے رو سے بحالت انکار وہ پکڑا جائے گا۔جیسا کہ آجکل کے آریہ خیال کر رہے