صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 176
صحیح البخاری جلد ۱۶ 124 ۹ - كتاب التعبير آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔پس جبکہ ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے تئیں نبی یا کسی اور خاص درجہ کے آدمی تصور کرتے ہیں ایسے ایسے بد چلن آدمی بھی شریک ہیں جو بد چلنیوں اور بد معاشیوں میں چھٹے ہوئے اور شہرہ آفاق ہیں تو نبیوں اور ولیوں کی کیا فضیلت باقی رہی۔سو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ در حقیقت یہ سوال جس قدر اپنی اصل کیفیت رکھتا ہے وہ سب درست اور صحیح ہے اور جبریلی نور کا چھیالیسواں ۴۶ حصہ تمام جہان میں پھیلا ہوا ہے جس سے کوئی فاسق اور فاجر اور پرلے درجہ کا بدکار بھی باہر نہیں۔بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے۔اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسر و آشنا ببر کا مصداق ہوتی ہے کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔مگر یا درکھنا چاہئیے کہ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ جبریلی نور آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈ کوارٹر ہے تمام معمورہ عالم پر حسب استعداد ان کی اثر ڈال رہا ہے اور کوئی نفس بشر دُنیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو کم سے کم ایک ذرہ سی محبت وطن اصلی اور محبوب اصلی کی ادنیٰ سے ادنیٰ سرشت میں بھی ہے۔اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ تمام بنی آدم پر یہاں تک کہ ان کے مجانین پر بھی کسی قدر جبریل کا اثر ہوتا اور فی الواقعہ ہے بھی کیونکہ مجانین بھی جن کو عوام الناس مجذوب کہتے ہیں اپنے بعض حالات میں بوجہ اپنے ایک طور کے انقطاع کے جبریلی نور کے نیچے جاپڑتے ہیں تو کچھ کچھ ان کی باطنی آنکھوں پر اس نور کی روشنی پڑتی ہے جس سے وہ خدا تعالیٰ کے تصرفات خفیہ کو کچھ کچھ دیکھنے لگتی ہے مگر ایسی خوابوں یا ایسے مکاشفات سے نبوت اور ولایت کو کچھ صدمہ نہیں پہنچتا اور انکی شان بلند میں کچھ بھی فرق نہیں آتا اور کوئی التباس حیران کرنے والا واقعہ نہیں ہوتا۔کیونکہ درمیان میں ایک ایسا فرق بین ہے کہ جو بد یہی طور پر ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خواص