صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 175
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۷۵ ۹۱ - كتاب التعبير ٦٩٩٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ :۶۹۹۲: عبد الله بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان بْنِ أَسْمَاءٍ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِكٍ کیا کہ جویریہ ( بن اسماء) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ نے مالک سے ، مالک نے زہری سے روایت کی کہ وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سعيد بن مسیب اور ابو عبید نے انہیں بتایا۔اُن اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رَضِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَبِثْتُ فِي روایت کی۔اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں قید خانے میں اتنی دیر رہتا جتنی دیر یوسف رہے۔پھر بلانے والا آتا تو الدَّاعِي لَأَجَبْتُهُ میں اس کی بات مان لیتا۔أطرافه : ۳۳۷۲، ۳۳۷۵، ۳۳۸۷، ٤٥٣٧، ٤٦٩٤۔تشريح۔رُؤْيَا أَهْلُ السُّجُونِ وَالْفَسَادِ وَالرك: قیدیوں اور مفسدوں اور مشرکوں کا خواب دیکھنا۔زیر باب آیات میں ان قیدیوں کی خوابوں کا ذکر ہے جو حضرت یوسف کے ساتھ قید خانہ میں تھے۔نیز بادشاہ وقت کی خواب کا ذکر ہے۔امام بخاری ابواب کی ترتیب سے مضامین کا تسلسل بیان کر رہے ہیں جس کا آغاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رویا صالحہ وصادقہ سے کیا جن کا معراج آپ پر وحی الہی کی صورت میں ہوا پھر آپ کی نبوت کے اس حصے کا ذکر کیا جو مبشرات کی صورت میں صلحاء امت میں جاری رہے گا۔اس کی تفصیل رویا الصالحین کے عناوین ابواب سے کی پھر گذشتہ انبیاء، حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف کی خوابوں کے بعد امام بخاری نے ان اسیر وں اور شاہ وقت کی خوابوں تک اس مضمون کو ممتد کیا اور بتایا کہ سچی خواب ہر انسان کو آسکتی ہے حتی کہ فسادی اور مشرک بھی اس نعمت سے محروم نہیں اور یہ اس لیے بھی ہے کہ وہ وحی کنبوت کو بوجہ اجنبیت کے قبول کرنے سے محروم نہ رہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں ان لوگوں کا وہم بھی دور کرنا چاہتا ہوں جو ان شکوک اور شبہات میں مبتلا ہیں جو اولیاء اور انبیاء کے الہامات اور مکاشفات کو دوسرے لوگوں کی نسبت کیا خصوصیت ہو سکتی ہے۔کیونکہ اگر نبیوں اور ولیوں پر امور غیبیہ کھلتے ہیں تو دوسرے لوگوں پر بھی کبھی کبھی کھل جاتے ہیں بلکہ بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں اور بعض پرلے درجہ کے بد معاش اور شریر