صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page xx
صحیح البخاری جلد ۱۶ xiv فهرست بَاب ۲۳: مَنْ رَأَى تَرْكَ النَّكِيرِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى الله جس نے نبی صلی الی یوم کے انکار نہ کرنے کو دلیل سمجھا ۶۴۳ اسے تقریر کہتے ہیں) رسول اللہ کے سوا کسی کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةً لَا مِنْ غَيْرِ الرَّسُولِ۔تقریر (حجت) نہیں۔۶۴۴ باب ٢٤ : الْأَحْكَامُ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلَائِل۔وہ احکام جو دلائل سے معلوم کئے جائیں۔۔بَاب ٢٥ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْأَلُوا في صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: اہل کتاب سے کسی ۶۴۹ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ بَاب ٢٦ : كَرَاهِيَةُ الْخِلَافِ۔بات کے متعلق بھی نہ پوچھو اختلاف کو نا پسند کرنا۔۶۵۲ بَاب ۲۷: نَهْيُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ان چیزوں کے سوا جن کا جائز ہونا معلوم ہو کسی ۶۵۶ اور چیز کو حرام قرار دینے سے نبی صلی اللہ کا منع التَّحْرِيمِ إِلَّا مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ۔فرمانا۔۔۔بَاب ۲۸ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَآمُرُهُمْ شُوری بَيْنَهُمْ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا اور ان کا طریق یہ ہے کہ اپنے ہر معاملہ کو باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں۔۹۷ - كِتَابُ التَّوْحِيدِ ۶۵۹ بَاب ۱: مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بي الى الم کے اپنی اُمت کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی ۶۶۹ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى توحید کی طرف بلانے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں بَاب ۲ : قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الله تبارک و تعالٰی کا یہ فرمانا: تم اللہ کو پکارو یا رحمن ۶۷۵ الرحمن کو پکارو بَاب : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّ اللهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَةِ الله تعالٰی کا یہ فرمانا: یقینا اللہ ہی ہے جو بہت رزق ۶۷۹ دینے والا، صاحب قوت (اور) مضبوط صفات وو والا ہے۔بَاب ٤ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى الله تعالیٰ کا فرمانا: غیب کا جاننے والا وہی ہے اور ۶۸۳ وہ اپنے غیب پر کسی کو غالب نہیں کرتا۔غيبة أحدًا۔ا بابه : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى السَّلامُ الْمُؤْمِنُ۔اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: وہ ہر عیب سے سلامت ہے ۶۹۰ سب کو امن دینے والا ہے۔بَاب : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى مَلِكِ النَّاسِ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ( وہ رب) جو تمام انسانوں کا ۶۹۵ بادشاہ (بھی) ہے۔