صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 174
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۷۴ ٩١ - كتاب التعبير النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ قَالَ جانے دو۔ یوسف اے راستباز ! ہمیں سات تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَابًا فَمَا حَصَدْتُم موٹی گائیوں کی تعبیر بتاؤ جن کو سات دہلی گائیاں فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِةَ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا کھا رہی ہیں اور نیز سات سبز بالیوں کی اور سات تَأْكُلُونَ ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ سَبْع دوسری بالیوں کی جو خشک ہیں ہو سکتا ہے کہ میں شدَادُ يَا كُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا لوگوں کے پاس واپس جاؤں اور امید ہے کہ وہ جانیں تم کس پائے کے ہو)۔ یوسف نے کہا کہ مِمَّا تُحْصِنُونَ ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ تم سات سال تک بدستور کھیتی باڑی کروگے اور عَامُ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَ فِيهِ جو فصل تم کاٹو اسے بالیوں میں ہی رہنے دیتا۔ يَعْصِرُونَ وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ سوائے تھوڑی سی مقدار کے جو تم کھاؤ۔ پھر ان فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعُ إِلى رَبَّكَ کے بعد سات سال سخت قحط کے آئیں گے وہ (یوسف: ٤٠ - ٥١) سبھی کچھ چٹ کر جائیں گے جو تم نے ان کے لئے قبل از وقت سنبھال کر رکھا ہو گا۔ سوائے تھوڑی مقدار کے جو تم بچا رکھو۔ پھر ان کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش برسے گی اور جس میں وہ شراب نکالیں گے اور بادشاہ نے کہا: اس کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد یوسف کے پاس آیا تو اس نے کہا۔ اپنے مالک کے پاس لوٹ جاؤ۔ وَادَّكَرَ افْتَعَلَ مِنْ ذَكَرَت أُمَّةٍ اور ادَّ كَرَ باب افتعل کے وزن پر ذکرت سے ہے قَرْنٍ وَتُقْرَأُ أَمَةٍ نِسْيَانٍ ۔ وَقَالَ ابْنُ یعنی یاد کیا ۔ أُمَّةٍ کے معنی ہیں زمانہ اور یہ لفظ أَمَةٍ عَبَّاسٍ يَعْصِرُونَ الْأَعْنَابَ وَالدُّهْنَ بھی پڑھا جاتا ہے ۔ جس کے معنی ہیں نسیان، تُحْصِنُونَ تَحْرُسُونَ۔ بھولنا اور حضرت ابن عباس نے کہا: يَعْصِرُونَ سے مراد یہ ہے کہ وہ انگور اور تیل نچوڑیں گے۔ تُحْصِنُونَ کے معنی ہیں تم محفوظ رکھتے ہو۔