صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 173
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۷۳ ٩١ - كتاب التعبير ↓ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَ آبَاؤُكُمْ مَّا اَنْزَلَ اور تمہارے آباء نے خود ہی رکھ لئے ہیں۔ اللہ اللهُ بِهَا مِنْ سُلْطن إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ فیصلہ اللہ ہی أمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی القَيمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا پائیدار دین ہے مگر يَعْلَمُونَ يُصَاحِبَي السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اے قید کے میرے دونو ساتھیو ! جو تم میں سے ایک ہے تو وہ اپنے مالک کو فَيَسْقِى رَبَّهُ خَمْرًا ۚ وَ أَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی پر چڑھایا فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْ رَأْسِهِ قُضِيَ الْأَمْرُ جائے گا اور پرندے اس کے سر کو نوچیں گے۔ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِينِ وَ قَالَ لِلَّذِى جس امر کے متعلق تم پوچھتے تھے اس کا فیصلہ کیا ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِنْهُمَا الكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ جا چکا ہے اور اس نے اس شخص سے کہا جس کے فَانْسُهُ الشَّيْطَنُ ذِكْرَ رَبَّهِ فَلَبِثَ فِي متعلق خیال کیا تھا کہ وہ ان دونوں میں سے السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ وَقَالَ الْمَلِكُ نجات پانے والا ہے تم اپنے مالک کے پاس مجھے یاد إِنِّي أَرَى سَبْعَ بَقَرَتٍ سِبَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعُ کرنا تو شیطان نے اس کو بھلا دیا کہ وہ یوسف کا عِجَافٌ وَ سَبْعَ سُبُلَت خُضْرٍ وَ أَخَرَ ذکر اپنے مالک سے کرتا۔ اس لئے وہ قید خانے يُبِسْت يَأَيُّهَا الْمَلَأُ افْتُونِي فِي رُویائی میں چند برس رہا اور بادشاہ نے کہا: میں خواب میں إن كُنتُم لِلرُّؤْيَا تَعْبُرُونَ قَالُوا سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں جن کو سات دہلی أَضْغَاثُ أَحْلامٍ ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ گائیں کھا رہی ہیں اور - کھا رہی ہیں اور سات سبز بالیاں د سبز بالیاں دیکھتا ہوں اور سات ہی دوسری جو خشک ہیں۔ اے مصاحبو ! الْأَحْلامِ بِعَلِمِينَ وَ قَالَ الَّذِي نَجَا مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خواب کی مِنْهُمَا وَ اذْكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا أَتَيْتُكُمْ تعبیر کیا کرتے ہو۔ اُنہوں نے کہا: یہ پریشان بِتَأْوِيلِهِ فَارْسِلُونَ يُوسُفُ أَيُّهَا خواب ہیں اور ہم تو ان پریشان خوابوں کی تعبیر الصَّدِيقُ افْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَتٍ سِمَانِ نہیں جانتے اور اس شخص نے جس نے ان دونوں يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَ سَبْعِ سُتُبلت میں سے رہائی پائی تھی اور ایک مدت کے بعد اس خُضْرٍ وَ أُخَرَ يُبِسْت لَعَلَى ارْجِعُ إِلَى کو یاد آیا کہا میں تمہیں اس کی تعبیر بتاتا ہوں مجھے