صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 172
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۷۲ ۹ - كتاب التعبير بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرْبكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا: میں اپنے آپ قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامُ تُرزقية الانباتكما کو دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر کچھ روٹیاں اُٹھا رہا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ذَلِكُمَا مِمَّا ہوں جن سے پرندے روٹیاں کھا رہے ہیں۔عَلَّمَنِي رَبِّي إِنِّي تَرَكْتُ مِلَّةَ قَومٍ لاَ ہمیں ان خوابوں کی حقیقت سے آگاہ کر اور ہم يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَ هُم بِالْآخِرَةِ هُمُ تمہیں اُن لوگوں میں سے سمجھتے ہیں جو اچھے عمل كفِرُونَ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اباوى ابراهیم کرتے ہیں۔یوسف نے کہا: تمہارے پاس ابھی وہ و اسحق وَيَعْقُوبَ مَا كَانَ لَنَا آن کھانا نہیں آئے گا کہ جو تمہیں دیا جاتا ہے کہ میں نُّشْرِكَ بِاللهِ مِنْ شَيْءٍ ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ تمہیں ان خوابوں کی حقیقت بتادوں گا پیشتر اس اللهِ عَلَيْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لكِن اکثر کے کہ وہ کھانا تمہارے پاس آئے۔اس لئے النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ يُصَاحِبَي الشجن میرے رب نے مجھے یہ علم دیا کہ میں نے ایسے ارْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ (يوسف: ٣٧-٤٠) مذہب کو چھوڑ دیا ہے جو اللہ کو نہیں مانتے اور آخرت کے بھی انکاری ہیں اور میں اپنے دادا يَا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا پیروکار ہوں اور ہمیں شایاں نہیں کہ اللہ کا کسی چیز کو بھی شریک ٹھہرائیں۔یہ اللہ کا فضل ہی ہے جو ہم پر اور دوسروں پر ہوا لیکن بات یہ ہے کہ اکثر لوگ شکر گزار نہیں۔اے قید خانہ کے میرے دونوں ساتھیو۔کیا کئی رب۔وَقَالَ الْفُضَيْلُ لِبَعْضِ الْأَنْبَاع یا اور فضیل بن عیاض) نے متبعین میں سے کسی عبد الله ارباب مُتَفَرِّقُونَ خَيْرُ آمِ اللہ سے کہا : اے اللہ کے بندے! کیا کئی رب بہتر ہیں الوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔یا ایک اللہ جو نہایت ہی زبر دست معبود ہے۔تَعْبُدُونَ مِن دُونِه إِلا أَسْمَاء تم اس کے سوانرے نام ہی پوجتے ہو جو تم نے