صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 169
صحیح البخاری جلد ۱۶ 199 ۹۱ - كتاب التعبير عزت، ناموری، مال، جاہ و جلال اور امیدیں اسی کے ساتھ وابستہ۔دیکھو متقی کا کیا کام ہے۔اس اچھے چلتے پھرتے جو ان لڑکے سے کہا: میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کروں بیٹا بھی کیسا فرماں بردار بیٹا ہے۔قَالَ يَابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصّبِرِينَ (الصافات: ۱۰۳) اباجی ! وہ کام ضرور کرو جس کا حکم جناب الہی سے ہوا۔میں بفضلہ تعالیٰ صبر کے ساتھ اسے برداشت کروں گا۔یہ ہے تقویٰ کی حقیقت یہ ہے قربانی۔قربانی بھی کیسی قربانی کہ اس ایک ہی قربانی میں سب ناموں، امیدوں ناموریوں کی قربانی آگئی۔جو اللہ کیلئے انشراح صدر سے ایسی قربانیاں کرتے ہیں۔اللہ بھی ان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔اس کے بدلے ابراہیم کو اتنی اولا د دی گئی کہ مردم شماریاں ہوئی ہیں مگر پھر بھی ابراہیم کی اولاد کی صحیح تعداد کی دریافت سے مستثنیٰ ہے۔کیا کیا برکتیں اس مسلم پر ہوئیں۔کیا کیا انعام الہی اس پر ہوئے کہ گننے میں نہیں آسکتے۔ہماری سر کار خاتم الانبیاء سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی ابراہیم کی اولاد سے ہوئے۔“ (حقائق الفرقان، جلد ۳ صفحه ۴۷۳،۴۷۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت وحی ہوا کرتی تھی لیکن اس کا کہیں ذکر بھی نہیں گیا گیا کہ اس کو یہ الہام ہوا یہ وحی ہوئی بلکہ ذکر کیا گیا ہے تو اس بات کا کہ إِبْراهِيمَ الَّذِي وَفَّى (النجم : ۳۸) وہ ابراہیم جس نے وفاداری کا کامل : نمونہ دکھایا۔یا یہ کہ آیا براهِيمُ ، قَد صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ (الصافات: ۱۰۶،۱۰۵) (ملفوظات جلد ۳ صفحه ۶۳۷) نیز آپ فرماتے ہیں: دیکھو حضرت ابراہیم پر کیسا بڑا ابتلاء آیا۔اس نے اپنے ہاتھ میں چھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے اور اس چھری کو اپنے بیٹے کی گردن پر اپنی طرف سے پھیر دیا مگر آگے بکرا تھا۔ابراہیم امتحان میں پاس ہوا۔اور خدا تعالیٰ نے بیٹے کو بھی بچا لیا۔تب خدا تعالیٰ ابراہیم" پر خوش ہوا کہ اُس نے اپنی طرف سے کوئی فرق نہ