صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 168 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 168

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۶۸ ۹۱ - كتاب التعبير کی حقیقت ان پر کھولی گئی حتی کہ وہ عملاً بیٹے کو قتل کرنے لگے تب بتایا گیا کہ ہمارا یہ مطلب نہ تھا اور یہ خدا تعالیٰ نے اسی لئے کیا تا دنیا کو بتا دے کہ خدا کے لئے ابراہیم اپنا اکلوتا اور بڑھاپے کا بیٹا بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔“ (حضرت مسیح موعود کے کارنامے، انوار العلوم، جلد ۰ اصفحہ ۱۶۵،۱۶۴) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور ضعیف تھے۔ ۹۹ برس کی عمر تھی۔ خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولاد صالح عنایت کی۔ اسمعیل جیسی اولاد عطا کی۔ جب اسمعیل جوان ہوئے تو حکم ہوا کہ ان کو قربانی میں دے دو۔ اب حضرت ابراہیم کی قربانی دیکھو۔ زمانہ اور عمر وہ کہ ۹۹ تک پہنچ گئی۔ اس بڑھاپے میں آئندہ اولاد ہونے کی کیا توقع۔ اور وہ طاقتیں کہاں؟ مگر اس حکم پر ابراہیم نے اپنی ساری طاقتیں، ساری امیدیں اور تمام ارادے قربان کر دیئے۔ ایک طرف حکم ہوا۔ اور معا بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا۔ پھر بیٹا بھی ایسا سعید بیٹا تھا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔ اني ارى في المَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ تو وہ بلا چون و چرا یونہی بولا کہ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّبِرِينَ (الصافات: ۱۰۳) انا جلدی کرو۔ ورنہ وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ خواب کی بات ہے۔ اس کی تعبیر ہو سکتی ہے۔ مگر نہیں۔ کہا: پھر کر ہی لیجئے۔ غرض باپ بیٹا نے فرماں برداری دکھائی کہ کوئی عزت، کوئی آرام، کوئی دولت اور کوئی امید باقی نہ رکھی۔ یہ آج کی ہماری قربانیاں اسی پاک قربانی کا نمونہ ہیں۔ مگر دیکھو اس میں اور ان میں کیا فرق ہے۔ “ ( حقائق الفرقان، جلد ۳ صفحہ ۴۷۲) آپ مزید فرماتے ہیں: یہ دن ( عید الاضحی) بھی ایک عظیم الشان منتقی کی یاد گار ہے۔ اس کا نام ابراہیم تھا۔ اس کے پاس بہت سے مویشی تھے۔ بہت سے غلام تھے اور بڑھاپے کا ایک ہی بیٹا تھا۔ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعَى قَالَ يُبْنَى إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ إِنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَا ذَا تَرى سو ۱۰۰ برس کے قریب کا بڑھا۔ ایک ہی بیٹا، اپنی ساری