صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 170
صحیح البخاری جلد ۱۶ 12+ ۹۱ - كتاب التعبير رکھا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ بیٹا بچ گیا ورنہ ابراہیم نے اس کو ذبح کر دیا تھا۔اس واسطے اس کو صادق کا خطاب ملا۔اور توریت میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم تو آسمان کے ستاروں کی طرف نظر کر کیا تو ان کو گن سکتا ہے۔اسی طرح تیری اولاد بھی نہ گئی جائے گی۔تھوڑے سے وقت کی تکلیف تھی وہ تو گذر گئی۔اس کے نتیجہ میں کس قدر انعام ملا۔آج تمام سادات اور قریش اور یہود اور دیگر اقوام اپنے آپ کو ابراہیم کا فرزند کہتے ہیں۔گھڑی دو گھڑی کی بات تھی وہ تو ختم ہو گئی اور اتنا بڑا انعام ان کو خدا تعالیٰ کی طرف ملا۔در حقیقت انسان کا تقویٰ تب محقق ہوتا ہے جب کہ اس پر کوئی مصیبت وارد ہو۔جب وہ تمام پہلو ترک کر کے خدا تعالیٰ کے پہلو کو مقدم کرلے اور آرام کی زندگی کو چھوڑ کر تلخ زندگی قبول کر لے تب انسان کو حقیقی تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔انسان کی اندرونی حالت کی اصلاح نری رسمی نمازوں اور روزوں سے نہیں ہو سکتی بلکہ مصائب کا آنا ضروری ہے۔“ (ملفوظات، جلد ۵، صفحه ۴۱۶، ۴۱۷) بَابِ ۸: التَّوَاطُقُ عَلَى الرُّؤْيَا اتفاق سے ایک ہی خواب دوسرے کو آنا ٦٩٩١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ٢٩٩١: يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أُنَاسًا سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ روایت کی کہ کچھ لوگوں کو خواب میں دکھایا گیا وَأَنَّ أُنَاسًا أُرُوها فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِر كه ليلة القدر آخری سات راتوں میں ہے اور کچھ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لوگوں کو خواب میں یہ دکھایا گیا کہ وہ آخری دس راتوں میں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ۔اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کیا کرو۔أطرافه: ١١٥٨، ٢٠١٥۔