صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 167 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 167

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۶۷ ۹۱ - كتاب التعبير بَاب ٧: رُؤْيَا إِبْرَاهِيمَ ابراہیم (علیہ السلام) کا خواب وَقَوْلُهُ تَعَالَى فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعَى قَالَ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: جب (اسماعیل) اتنی عمر کا يبنى الى ارى في المَنَامِ انّى اَذْبَحُكَ ہو گیا کہ وہ ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے لگا تو فَانْظُرُ مَا ذَا تَرَى ، قَالَ يَابَتِ افْعَلُ مَا ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے ! میں خواب میں تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں اس لئے الصبِرِينَ فَلَمَّا اسْلَمَا وَتَلهُ لِلْجَبينِ سوچو تمہاری کیا رائے ہے ؟ اسماعیل نے کہا: اے وَ نَادَينه آن یا براهِيمُ قَدْ صَداقت میرے باپ ! آپ وہی کریں جو آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔آپ ان شاء اللہ مجھے انہی لوگوں میں الرويا إنا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ سے پائیں گے جو صبر کرتے ہیں۔جب وہ دونوں الصافات: ١٠٣ - ١٠٦)۔قَالَ حکم بجالانے لگے اور ابراہیم نے اسماعیل کو پیشانی مُجَاهِدٌ أَسْلَمَا سَلَّمَا مَا أُمِرَا بِهِ وَتَلَّهُ کے بل لٹایا اور ہم نے اس کو پکارا، اے ابراہیم اتو وَضَعَ وَجْهَهُ بِالْأَرْضِ۔نے اپنی اس خواب کو سچا کر دکھایا ہے۔ہم اسی طرح تمام اُن لوگوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں جو نہایت عمدہ کام کرتے ہیں۔مجاہد نے کہا: أَسْلَمَا کے معنی ہیں کہ انہوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور تلہ کے معنی ہیں اس کو منہ کے بل زمین پر رکھا۔ریح : رُؤْيَا إِبْرَاهِيمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کا خواب۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خواب ہے جب ان کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ وہ بیٹے کو قتل کر دیں۔کیونکہ اگر یہ مطلب ہوتا تو جب وہ قتل کرنے لگے تھے انہیں منع نہ کیا جاتا۔لیکن حضرت ابراہیم کو خواب ایسے رنگ میں دکھائی گئی کہ ابراہیم کا ایمان لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔اور جب وہ اس کے ظاہری معنوں کی طرف مائل ہوئے تو اس