صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 166
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۱۶۶ ۹ - كتاب التعبير جنت میں داخل ہو جائے گا مگر حضرت یوسف علیہ السلام چاہتے ہیں کہ اس دنیا سے وہ ایسا مسلم ہونے کی حالت میں جائیں کہ آگے جاکر صالحین کے ساتھ الحاق ہو یعنی ایسے کامل مسلم ہوں کہ بغیر کسی روک کے مرنے کے بعد ترقیات ہی کی طرف قدم اٹھے اور یہی وہ مقام ہے جس کی جستجو مومن کو ہونی چاہئے۔“ (تفسیر کبیر، سورۃ یوسف، زیر آیت رَبِّ قَدْ أَتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي، جلد ۳ صفحه ۳۶۵،۳۶۴) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت یعقوب تعبیر رویا کی سمجھ گئے تھے۔فرمایا۔تیرے بھائی تو تیر امقابلہ کریں گے۔اور یہ ان کا شیطانی فعل ہو گا۔کیونکہ شیطان ہی آپس میں جنگ کروا دیتا ہے۔( حقائق الفرقان، جلد ۲ صفحہ ۳۸۷،۳۸۶) آپ مزید فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ تجھے اس رویا کی اصل حقیقت بتا ہی دے گا۔اس بات سے حضرت یعقوب نے پہچان لیا کہ یوسف" پر خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہونے والا ہے۔میرا اور میرے باپ اسحاق میرے دادا ابراہیم کا وارث ہو گا۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۲ صفحه ۳۸۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ عادت انبیاء کی شائع متعارف ہے کہ وہ روح القدس سے پر ہو کر مثالوں اور استعاروں میں بولا کرتے ہیں اور وحی الہی کو یہی طرز پسند آئی ہوئی ہے کہ اس جسمانی عالم میں جو کچھ آسمان سے اُتارا جاتا ہے اکثر اس میں استعارات و مجازات پر ہوتے ہیں عام طور پر جو ہر ایک فرد بشر کو کوئی نہ کوئی سچی خواب آجاتی ہے جو نبوت کا چھیالیسواں ۴۶ حصہ بیان کی گئی ہے اُس کے اجزا پر بھی اگر نظر ڈال کر دیکھو تو شاذو نادر کوئی ایسی خواب ہو گی جو استعارات اور مجازات سے بکلی خالی ہو۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳، حاشیه صفحه ۱۳۴)