صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 165
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۶۵ ۹۱ - كتاب التعبير کو بزرگی عطا فرمائے گا یعنی انہیں ان پر ایمان لاکر اس نبوت میں حصہ لینے کی توفیق عطا ہو گی۔“ ( تفسیر کبیر ، یوسف ، زیر آیت وَ كَذلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ جلد ۳ صفحه (۲۸۳) آپ مزید فرماتے ہیں: رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہت مل گئی تھی۔ مگر اس سے یہ مراد نہیں۔ ملک سے مراد تصرف اور قبضہ ہے اور وہ ان کو بادشاہ وقت کے حکم سے حاصل تھا۔ وَعَلَّمْتَنِی مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ تو نے مجھے خوابوں کی حقیقت سکھا دی یعنی انہیں پورا کر کے دکھا دیا۔ یا یہ کہ تو نے مجھے تعبیر الرویا کا علم سکھا دیا۔ فَاطِرَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ انبیاء کا وجو د صفات الہیہ کا ثبوت ہوتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام یہ کہتے ہیں کہ میری زندگی اللہ تعالیٰ کے فَاطِرَ السَّمُوتِ وَ الْأَرْضِ ہونے کا ثبوت ہے۔ جب میں لاشتی محض تھا خدا تعالیٰ نے مجھے اعلیٰ ترقیات کی خبر دی اور پھر میں جو ایک معمولی حیثیت کا انسان تھا مجھے طاقت دے کر ایک بڑی حکومت بخشتی اور گویا ایک نیا آسمان اور زمین پیدا کر دیا۔ پس میرے وجود سے اللہ تعالیٰ کے فَاطِرَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہونے کا ثبوت مل گیا ہے۔ انْتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ در حقیقت دعا ہے یعنی اے خدا تو میر ادنیا و آخرت میں مددگار بن۔ چنانچہ اسی کی تشریح میں فرمایا تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِي بالصلِحِينَ یعنی اس دنیا میں میرا انجام بخیر ہو اور اگلے جہان میں میں ان لوگوں میں شامل رہوں جو ترقی کے قابل ہیں۔ ولایت دنیوی کی تفسیر تَوَفَّنِي مُسْلِمًا کے الفاظ سے کی ہے اور ولایت اخروی کی تفسیر الْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ کے الفاظ ہے۔ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ جب تَوَفَّنِي مُسْلِمًا کہہ دیا تو الْحِقْنِي بالصلِحِینَ کی کیا ضرورت تھی۔ جو مسلم فوت ہو گا صالحین میں اٹھے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم کا لفظ عام ہے۔ ایک شخص جس کا اسلام حقیقت میں کمزور ہے وہ ظاہری شریعت کی رو سے مسلم کہلا سکتا ہے اور ایسا شخص تھوڑی سی سزا پا کر