صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 164 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 164

صحیح البخاری جلد ۱۶ سوم ۱۶۱ ٩١ - كتاب التعبير نے جب یہ خواب دیکھی ہے ان کی عمر صرف گیارہ بارہ سال کی تھی اور ان کے والد کی عمر پچاس سے اوپر تھی۔ پس ایسے وقت کی خواب کا پورا ہونا معمولی ہر گز نہیں کہلا سکتا۔ گیارہ ستاروں کی تعبیر میں میں نے بتایا ہے کہ گیارہ بھائی ہیں۔ ان کے نام بائبل سے یہ معلوم ہوتے ہیں۔ (۱) روبن (۲) سمعون (۳) لاوی (۴) یهودا (۵) دان (۶) نفتالی (۷) جد (۸) آثر (۹) اشکار (۱۰) زبلون (۱۱) بنیامین۔ ان سب کے معنے بھی بائبل نے بتائے ہیں اور سب کے سب عجیب و غریب ہیں۔ سوائے بن یامین کے سب نام ماؤں نے رکھے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ یوسف زیر آیت إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَابَتِ إِنِّي رايت جلد ۳ صفحه ۲۷۹، ۲۸۰) آپ مزید فرماتے ہیں: یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھائیوں کو خواب سنانے سے منع کیا اس کی وجہ قرآن کریم نے خود ہی بتادی ہے اور وہ یہ کہ انہیں رشک پیدا ہو گا کہ یہ لڑکا بڑا ہونے والا ہے اور غصہ میں وہ یہ نہ سوچیں گے کہ خواب دیکھنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے اور وہ محض اس وجہ سے کہ اس کے بڑا ہونے کی بشارت اسے ملی ہے اسے اپنے راستہ سے ہٹانے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ بائبل بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ یوسف کے بھائی اس وجہ سے اس سے ناراض تھے کہ یہ خواہیں دیکھتا ہے۔“ آپ مزید فرماتے ہیں: " ( تفسیر کبیر ، یوسف، زیر آیت قَالَ يُبْنَى لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ جلد ۳ صفحه ۲۸۲) اور یہ جو فرمایا کہ خدا تعالیٰ تجھے خوابوں کی حقیقت بتائے گا اس کے دو معنے ہیں ایک یہ کہ خواب میں جو نظارہ دکھایا اسی طرح ظاہر میں کر کے دکھائے گا۔ دوسرے یہ کہ خوابوں کی تعبیر کرنے کا ملکہ عطا فرمائے گا۔ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ سے مراد مقام نبوت پر کھڑا کرنا ہے۔ یوسف سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی نبوت عطا فرمائے گا اور ان کے ذریعہ سے آل یعقوب