صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 163 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 163

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۶۳ ۹ - كتاب التعبير ہو سکتا تھا مگر ستارے کہہ کر ادا ہو گیا۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (فضائل القرآن نمبر ۶، انوار العلوم، جلد ۱۴ صفحه ۳۶۷،۳۶۶) اس آیت میں جو سجدہ کا لفظ آیا ہے اس سے مراد یہ نہیں کہ واقعہ میں وہ سجدہ کریں گے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ان کے تابع ہو جائیں گے اور ایسا ہی ہوا کیونکہ حضرت یوسف کے بھائی اور ماں باپ مصر میں آکر بس گئے جہاں وہ وزارت کے مرتبہ پر فائز تھے اور اس طرح وہ لوگ ان کے تابع فرمان ہو گئے۔روح المعانی میں لکھا ہے کہ ماں باپ اور بھائیوں کی اطاعت چونکہ معمولی بات ہے پس یہاں سورج اور چاند سے کچھ اور مراد لینا چاہئے۔مصنف کتاب کی رائے ہے کہ سورج سے مراد در حقیقت بادشاہ اور چاند سے مراد وزیر اور گیارہ ستاروں سے مراد اراکین دولت اور رؤساء دیار ہیں۔لیکن یہ معنے درست نہیں کیونکہ بادشاہ یوسف کے ماتحت نہیں ہوا۔بلکہ وہ بادشاہ کے ماتحت تھے اور اس کے قوانین پر چلتے تھے۔چنانچہ اس پر قرآن کریم شاہد ہے۔فرماتا ہے مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دينِ الْمَلِكِ (يوسف رکوع ۹) یوسف علیہ السلام اپنے بھائی کو شاہی قانون کے مطابق نہیں روک سکتے تھے۔(۲) بادشاہ کسی وزیر کا خواہ کتنا ہی احترام کرے اسے سجدہ کے لفظ سے موسوم نہیں کر سکتے کیونکہ وہ احترام اطاعت کا نہیں ہوتا بلکہ شفقت کا ہوتا ہے۔اور سجدہ چونکہ کمال اطاعت کی ظاہری تمثیل کا نام ہے اس لئے اظہار اطاعت کی شکلوں پر ہی مجاز آ بھی اس کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔اصل بات یہ ہے ماں باپ اور بھائی کی اطاعت بھی بڑی بات ہے کیونکہ عام طور پر ماں باپ اپنی اولاد کے ماتحت نہیں ہوتے۔پھر یہاں تو معاملہ ہی اور ہے۔حضرت یوسف نے بچپن کی عمر میں خواب دیکھا ہے جس پر بتایا گیا ہے کہ ایک دن ان کے بھائی اور ماں باپ ان کی اطاعت میں آجائیں گے۔کون شخص اس قدر عرصہ پہلے یہ بتا سکتا ہے کہ وہ زندہ رہے گا اور ترقی کرے گا اس کے گیارہ بھائی اور ماں باپ بھی زندہ رہیں گے اور ایک دن اس کے حکم کے نیچے آجائیں گے۔حضرت یوسف علیہ السلام