صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 162 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 162

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۶۲ ۹ - كتاب التعبير الحكيم O رَبِّ قَد أتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَ میرے بھائیوں کے در میان بگاڑ ڈال دیا تھا۔میرا عَلَيْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ رب جو بات چاہتا ہے اُسے نہایت لطافت سے السَّبُوتِ وَالْاَرْضِ اَنتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَ سر انجام دیتا ہے وہی درحقیقت علیم ہے حکیم ہے۔الْآخِرَةِ تَوَفَّنِى مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِى اے میرے رب! تو نے مجھے بادشاہتیں دیں اور بالصلِحِينَ (يوسف: ۱۰۲،۱۰۱) واقعات کی حقیقت کا علم بھی دیا۔اے ان آسمانوں اور اس زمین کو پیدا کرنے والے ! تو ہی میرا دنیا اور آخرت میں کارساز ہے۔مجھے فرمانبردار ہونے کی حالت میں وفات دینا اور نیک بندوں میں مجھے شامل کرنا۔فَاطِرٌ وَالْبَدِيعُ وَالْمُبْدِعُ وَالْبَارِئُ فَاطِرٌ اور بَدِيعُ اور مُبْدِعُ اور بَارِئُ اور خَالِقُ وَالْخَالِقُ وَاحِدٌ مِنْ الْبَدْوِ بَادِيَةٍ۔معنے کے لحاظ سے ایک ہی ہیں۔البذو سے مراد جنگل کی زندگی ہے۔تشریح : رُؤْيَا يُوسُفَ: یوسف کا خواب اذْ قَالَ يُوسُفُ لَا يَيْهِ يَابَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبَا وَ : الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُم في سجدِينَ 0 جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: اے میرے باپ! میں نے گیارہ ستارے اور سورج اور چاند کو دیکھا۔میں نے اُن کو دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رو استعارہ تھا کہ خواب میں حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین اور بھائیوں کو سورج چاند اور ستاروں کی صورت میں دیکھا۔اب خالی بھائی کہہ دینے سے وہ مضمون ادانہ ہوتا جو ستاروں میں ادا ہوا ہے۔یا جیسے سورج اور چاند کے الفاظ میں ادا ہوا ہے۔کیونکہ سورج چاند اور ستارے ایک وسیع مضمون رکھتے ہیں۔مثلاً یہی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بتا دیا تھا کہ تیرے بھائی باوجود اس کے کہ اس وقت تیرے مخالف ہیں اور ان کی عملی حالت اچھی نہیں اللہ تعالیٰ ان کی اولادوں سے دنیا کی ایسی ہی رہنمائی کرے گا جس طرح ستارے رہنمائی کرتے ہیں۔اب یہ ایک وسیع مضمون تھا جو بھائی کہہ کر ادا نہیں