صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 155
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۵۵ ۹۱ - كتاب التعبير سمجھ لو کہ شیطان سے تعلق پیدا ہو گیا ہے اور اپنی اصلاح کرو۔اور اگر اچھے منظر دکھائے جائیں تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ خوش ہے اور فضل کرنا چاہتا ہے۔پس نیکی میں اور ترقی کرو۔“ ( تفسير كبير ، سورۃ یوسف جلد ۳ صفحه ۳۱۸،۳۱۷) بَاب ٤ : الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے ٦٩٨٦ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ :۶۹۸۶: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ - وَأَثْنَى يحي بن ابی کثیر نے ہمیں بتایا اور مسد دنے اُن کی عَلَيْهِ خَيْرًا لَقِيتُهُ بِالْيَمَامَةِ - عَنْ أَبِيهِ اچھی تعریف کی۔(کہا کہ) میں اُن سے یمامہ میں حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ ملا تھا۔وہ اپنے باپ سے روایت کرتے تھے۔النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ (انہوں نے کہا) ابوسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ اُنہوں نے حضرت ابو قتادہ سے، انہوں نے نبی الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَعَوَّذْ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: مِنْهُ وَلْيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ فَإِنَّهَا لَا اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے۔اگر کوئی پریشان تَضُرُّهُ۔وَعَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ خواب دیکھے تو چاہیے کہ اس سے پناہ مانگے اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ۔اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ اپنی بائیں طرف تھوک دے تو وہ خواب اُس کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور نیز اُنہوں نے اپنے باپ سے یہ سند بھی روایت کی۔اُنہوں نے کہا کہ ہم سے عبد اللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا۔اُنہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حدیث روایت کی۔أطرافه: ٣٢٩٢ ٥٧٤٧، ٦٩٨٤ ، ٦٩٩٥، 199٦، 7005، 7044۔٦٩٨٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۶۹۸۷: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر