صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 154 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 154

صحیح البخاری جلد ۱۶ اولد ٩١ - كتاب التعبير تشريح : الرُّؤْيَا مِن الله : روی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ زیر بابر -- زیر باب روایت میں رویاه رو یا صادقہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اور پریشان خوار پریشان خواب کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: پریشان خواب شیطان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں، سوء ہضمی اس کا باعث ہو یا کوئی اور سبب۔“ " (صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفة ابليس وجنوده، جلد ۶ صفحه ۱۱۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احلام حلم کی یا حُلْم کی جمع ہے۔ مَا يَرَاهُ النَّائِمُ فِي نَوْمِهِ لَكِنَّهُ قَدْ غَلَبَ عَلَى مَا يَرَاهُ مِنَ الشَّرِ وَالْقَبِيحِ كَمَا غَلَبَتِ الرُّؤْيَا عَلَى مَا يَرَاهُ مِنَ الْخَيْرِ وَالْحَسَنِ وَرُبَّمَا يُسْتَعْمَلُ كُلُّ مَكَانَ الآخَرِ - حلم اس نظارہ کو کہتے ہیں جو انسان نیند کی حالت میں دیکھے لیکن یہ لفظ عام طور پر برے اور قبیح نظارہ کے لئے بولا جاتا ہے جس طرح رویا کا لفظ عام طور پر اچھے اور نیک نظارہ کو کہتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ پر بھی بول لئے جاتے ہیں۔ (اقرب) مجمع البحار میں لکھا ہے الرُّؤْيَا مِنَ اللهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَهُمَا مَا يَرَاهُ النَّائِمُ لَكِنْ غَلَبَ الرُّؤْيَا عَلَى الْخَيْرِ وَالْحُلْمُ عَلَى الشَّرِ وَالْقَبِيحِ یعنی رؤیا اور حلم دونوں لفظوں کے اصل معنے حالت خواب میں دیکھنے کے ہیں لیکن عام محاورہ اور استعمال میں حلم بری خواب کو کہتے ہیں اور رؤیا اچھی کو۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے الرُّؤْيَا مِنَ الله وَالحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ یعنی رؤیا اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور حلم شیطان کی طرف سے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈرانے والی خواب آتی ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو اکثر ڈرانے والی خوامیں آتی رہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوں گی۔ بلکہ شیطان کی طرف سے ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رحم اس کے غضب پر غالب ہے۔ اور جس کو اکثر اچھی خواہیں آئیں وہ سمجھے کہ وہ خواہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکہ ان میں رحمت کا پہلو غالب ہے۔ دوسرے معنے اسکے یہ ہیں کہ حلم یعنی برے خوابوں کا موجب شیطان ہے اور رویا یعنی اچھے خوابوں کا موجب اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی عذاب کا سبب شیطانی تعلق ہوتا ہے اور فضل و برکت کا سبب رحمانی تعلق ہوتا ہے۔ گویا یہ بتایا ہے کہ اگر بری خواہیں اور ڈراؤنے منظر دیکھو تو