صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 153
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۵۳ ۹ - كتاب التعبير سَعِيدٍ بَاب : الرُّؤْيَا مِنَ اللهِ رویا اللہ کی طرف سے ہوتی ہے ٦٩٨٤: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۱۹۸۴: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ ( بن معاویہ ) نے ہمیں بتایا۔یحی بن سعید نے ہم قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ قَالَ سے بیان کیا۔بچی نے کہا: میں نے ابو سلمہ سے سنا سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى وہ کہتے تھے میں نے حضرت ابو قتادہ سے سنا۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ۔نے فرمایا بچی رؤیا اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔أطرافه: ۳۲۹۲، ٥٧٤٧، ٦٩٨٦ ٦٩٩٥ ٦٩٩٦، ٧٠٠٥ ، ٧٠٤٤- ٦٩٨٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۹۸۵: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ عَنْ لیث نے ہمیں بتایا۔ابن الہاد نے مجھ سے بیان کیا۔عَبْدِ اللهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ اُنہوں نے عبد اللہ بن حباب سے ، عبد اللہ نے الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى الله حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی کہ انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے ہیں : رُؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ اگر تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور چاہیے کہ وہ اس کی وجہ سے اللہ کا شکر ادا کرے اور اس خواب کو بیان کرے اور اگر اس کے سوا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ شَرِهَا کوئی ایسی خواب دیکھے جس کو ناپسند کرتا ہو تو وہ وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ۔شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔چاہیے کہ اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے تو وہ خواب اُس کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِهَا وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ فَإِنَّمَا طرفه ٧٠٤٥۔