صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 152 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 152

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۵۲ ٩١ - كتاب التعبير مفتوحة ابدا وليس فى هذا النوع الا المبشرات أو المنذرات من الامور المغيبة او اللطائف القرآنية والعلوم اللدنية۔ و اما النبوة التي تامة كاملة جامعة الجميع كمالات الوحى فقد آمنا بانقطاعها من يوم نزل فيه: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ “ (توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰ ، ۶۱ ) (ترجمہ) ” پس جان لے اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے کہ نبی محدث ہوتا ۔ ہوتا ہے اور محدث نبوت کی انواع میں سے ایک نوع کے حصول کی وجہ سے نبی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب نبوت میں سے صرف اس کی ایک نوع باقی رہ گئی ہے اور وہ رویا صادقہ اور مکاشفاتِ صحیحہ کی اقسام میں سے مبشرات ہیں اور وہ وحی ہے جو خاص خاص اولیاء پر نازل ہوتی ہے اور وہ وہ نور ہے جو درد مند قوم کے دلوں پر اپنی تجلی فرماتا ہے۔ پس اے کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے والے اور بصیرت رکھنے والے سن کیا اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ باپ نبوت کلی طور پر بند ہے بلکہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ایسی نبوت کاملہ جو وحی شریعت کی حامل ہو وہ منقطع ہو چکی ہے لیکن ایسی نبوت جس میں صرف مبشرات ہوں وہ قیامت تک باقی ہے وہ کبھی منقطع نہیں ہو گی اور تجھے اس بات کا علم ہے اور تو نے کتب حدیث میں بھی یہ پڑھا ہے کہ رویا صالحہ نبوت یعنی نبوت تامہ کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ پس جب رؤیا صادقہ کو یہ مرتبہ حاصل ہے تو پھر وہ کلام کتنا عظیم ہو گا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے محدثین کے قلوب پر نازل کیا جاتا ہے۔ پس جان لے اللہ تعالیٰ تیری مدد فرمائے کہ ہمارے کلام کا ماحصل یہ ہے کہ نبوت جزئیہ کے دروازے ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں اور اس نوع میں وہ مبشرات اور منذرات آتی ہیں جو امور غیبیہ پر مشتمل ہوتی ہیں یا لطائف قرآنی اور علوم لدنی سے ان کا تعلق ہوتا ہے لیکن نبوت کاملہ تامہ جو وحی کے تمام کمالات کی جامع ہے ہم اس کے منقطع ہونے پر اس دن سے ایمان لاتے ہیں جب سے یہ آیت قرآنی نازل ہوئی مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ (الاحزاب : ۴۱) ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام، سورۃ الاحزاب آیت ۴۱، جلد ۳ صفحه ۲۸۴، ۶۸۵ حاشیه )