صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 152 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 152

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۱۵۳ ۹ - كتاب التعبير مفتوحة ابدا وليس فى هذا النوع الا المبشرات او ال<mark>من</mark>ذرات <mark>من</mark> الامور المغيبة أو اللطائف القرآنية والعلوم اللدنية۔و اما النبوة التي تامة كاملة جامعة لجميع كمالات <mark>ا<mark>لوحى</mark></mark> ف<mark>قد</mark> آ<mark>من</mark>ا بانقطاعها <mark>من</mark> يوم نزل فيه: ما كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ اللَّهِينَ توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۱،۶۰ ) (ترجمہ) ” پس جان لے اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے کہ نبی محدث ہوتا ہے اور محدث نبوت کی انواع میں سے ایک نوع کے حصول کی وجہ سے نبی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب نبوت میں سے صرف اس کی ایک نوع باقی رہ گئی ہے اور وہ رویا صادقہ اور مکاشفات صحیحہ کی اقسام میں سے مبشرات ہیں اور وہ وحی ہے جو خاص خاص اولیاء پر نازل ہوتی ہے اور وہ وہ نور ہے جو درد <mark>من</mark>د قوم کے دلوں پر اپنی تجلی فرماتا ہے۔پس اے کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے والے اور بصیرت رکھنے والے سن کیا اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ باپ نبوت کلی طور پر بند ہے بلکہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ایسی نبوت کاملہ جو وحی شریعت کی حامل ہو وہ <mark>من</mark>قطع ہو چکی ہے لیکن ایسی نبوت جس میں صرف مبشرات ہوں وہ قیامت تک باقی ہے وہ کبھی <mark>من</mark>قطع نہیں ہو گی اور تجھے اس بات کا علم ہے اور تو نے کتب حدیث میں بھی یہ پڑھا ہے کہ رویا صالحہ نبوت یعنی نبوت تامہ کا چھیالیسواں حصہ ہے۔پس جب رو یا صادقہ کو یہ مر تبہ حاصل ہے تو پھر وہ کلام کتنا عظیم ہو گا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے محدثین کے قلوب پر نازل کیا جاتا ہے۔پس جان لے اللہ تعالیٰ تیری مدد فرمائے کہ ہمارے کلام کا ماحصل یہ ہے کہ نبوت جزئیہ کے دروازے ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں اور اس نوع میں وہ مبشرات اور <mark>من</mark>ذرات آتی ہیں جو امور غیبیہ پر مشتمل ہوتی ہیں یا لطائف قرآنی اور علوم لدنی سے ان کا تعلق ہوتا ہے لیکن نبوت کاملہ تامہ جو وحی کے تمام کمالات کی جامع ہے ہم اس کے <mark>من</mark>قطع ہونے پر اس دن سے ایمان لاتے ہیں جب سے یہ آیت قرآنی نازل ہوئی مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ (الاحزاب : ۴۱)۔مرتبہ ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام، سورۃ الاحزاب آیت ۴۱، جلد ۳ صفحه ۶۸۵،۶۸۴ حاشیه )